پون کلیان کی زبان اور طرز گفتگو مناسب نہیں

صدر نشین تلنگانہ قانون ساز کونسل گتہ سکھیندر ریڈی نے نلگنڈہ کیمپ آفس میں منعقدہ ’’چٹ چیٹ‘‘ پروگرام میں مختلف سیاسی اور عوامی مسائل پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ وقت میں تلنگانہ ریاست کی تشکیل کی تقریبات جاری ہیں ایسے موقع پر آندھرا پردیش کے نائب وزیر اعلیٰ پون کلیان کی جانب سے جلسہ عام منعقد کرنا مناسب نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ پون کلیان کی زبان اور طرزِ گفتگو بھی مناسب نہیں ہے اور عوامی نمائندوں کو ذمہ دارانہ بیانات دینے چاہئیں۔ گتہ سکھیندر ریڈی نے کہا کہ باہمی الزام تراشی اور گستاخانہ بیانات کسی بھی صورت میں درست نہیں ہیں اور تلنگانہ میں نفرت پیدا کرنے کی کوششوں سے گریز کیا جانا چاہیے۔انہوں نے آندھرا پردیش کی ترقی سے متعلق کہا کہ ریاست کے پاس تلنگانہ کے مقابلے میں زیادہ قدرتی وسائل طویل سمندری ساحل اور متعدد بندرگاہیں موجود ہیں۔ ایسے میں آندھرا پردیش کی قیادت کو اپنی ریاست کی ترقی پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے اور تلنگانہ کی طرف دیکھنے کے بجائے اپنے وسائل سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔صدر نشین قانون ساز کونسل نے کہا کہ بعض اتحاد کے قائدین اور این چندرا بابو نائیڈو خود یہ کہتے ہیں کہ امراوتی ایک شاندار دارالحکومت ہے لہٰذا وزیراعلیٰ نائب وزیراعلیٰ اور وزراء کو امراوتی میں رہ کر ریاستی انتظامیہ کو مضبوط بنانا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں کسان زیادہ تر دھان اور کپاس کی کاشت تک محدود ہو گئے ہیں جبکہ دیگر متبادل اور منافع بخش فصلوں کی جانب بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ زرعی شعبہ مزید مستحکم ہو سکے۔
