مردم شماری کا پہلا مرحلہ مکمل ، تلنگانہ کی آبادی 4.20 کروڑ سے تجاوز

مرکزی محکمہ مردم شماری کی جانب سے تلنگانہ میں مردم شماری (Census) کا پہلا مرحلہ کامیابی کے ساتھ مکمل کرلیا گیا ہے ۔ ابتدائی تخمینوں اور آن لائن درج کی گئی تفصیلات کے مطابق ریاست کی مجموعی آبادی 4.20 کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے ۔ مردم شماری کا یہ پہلا مرحلہ 11 مئی سے شروع ہو کر 9 جون تک جاری رہا جس کے دوران ہر خاندان کی تفصیلات کا عمل مکمل کیا گیا ۔ سال 2010-11 تک تلنگانہ کی مجموعی آبادی 3.50 کروڑ ریکارڈ کی گئی تھی اس کے مقابلے میں تازہ ترین تخمینے ظاہر کرتے ہیں کہ گزشتہ 16 برسوں میں 1.25 فیصد کی سالانہ شرح کے ساتھ ریاست کی آبادی میں 70 لاکھ کا نمایاں اضافہ ہوا ہے ۔ گریٹر حیدرآباد اور آوٹر رنگ روڈ تک کے علاقے کی آبادی 1.5 کروڑ سے تجاوز کرنے کی توقع ہے ۔ واضح رہے کہ سال 2011 کی مردم شماری میں حیدرآباد اور متحدہ ضلع رنگاریڈی کی مجموعی آبادی 92 لاکھ تھی ۔ اس کے علاوہ 2010-11 میں جہاں تلنگانہ میں خاندانوں کی تعداد 83 لاکھ تھی وہیں اب نئے اعداد و شمار کے مطابق خاندانوں کی جملہ تعداد بڑھ کر ایک کروڑ 20 لاکھ تک پہونچنے کا امکان ہے ۔ محکمہ مردم شماری کے مطابق یہ پورا عمل دو مرحلوں میں انجام دیا جارہا ہے ۔ پہلے مرحلے کے تحت تقریبا 80 ہزار ملازمین نے ریاست بھر کی ہر عمارت ، مکان ، بنیادی ڈھانچے کی سہولیات اور خاندان کے ارکان کی تعداد کی تفصیلات آن لائن رجسٹرڈ کی ہیں ۔ مردم شماری کا دوسرا مرحلہ آئندہ سال یعنی فروری 2027 میں شروع ہوگا جس میں ہر شہری کی انفرادی اور ذاتی تفصیلات جمع کی جائیں گی ۔ دونوں مرحلوں کے ڈیٹا کو یکجا اور مرتب کرنے کے بعد مرکزی حکومت کی جانب سے تلنگانہ کی آبادی کے حتمی اور سرکاری اعداد و شمار 2027 کے آواخر یا 2028 کے اوائل تک جاری کئے جانے کا قوی امکان ہے ۔
