مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان مستعفی ہوجائیں یا کابینہ سے خارج کرنے پر زور

کاکروچ جنتا پارٹی کوئی سیاسی جماعت نہیں ہے بلکہ طلبہ کے حقوق کے تحفظ کے لئے جدوجہد کرنے والی تحریک ہے۔ اس تحریک کا مقصد عہدہ پر موجود کسی شخص کو تبدیل کرتے ہوئے عہدہ حاصل کرنا نہیں ہے بلکہ نظام میں تبدیلی و بہتری کو یقینی بنانے کے لئے جدوجہد کرنا ہے۔ ملک میں جمہوریت اور دستور نے عوام کو جو حقوق دیئے ہیں وہ محض رائے دہی کے دن دیا گیا حق نہیں ہے بلکہ جمہوریت نے عوام کو جو حقوق دیئے ہیں وہ ہندستان کو بد عنوانیوں اور بے قاعدگیوں پاک بنائے رکھنے میں انتہائی معاون ثابت ہوگی۔ معروف سماجی جہد کار سونم وانگ چک نے شہر حیدرآباد میں منعقدہ ’کاکروچ جنتا پارٹی ‘ کے احتجاجی مظاہرہ سے خطاب کے دوران یہ بات کہی۔ انہو ںنے اندرا پارک (دھرنا چوک) پر منعقدہ احتجاجی مظاہرہ کے دوران کہا کہ NEETکے پرچہ کا افشاء ہوا ‘ CBSC نشانات میں بے قاعدگیوں کے علاوہ طلبہ کے ساتھ جاری ناانصافیوں کے خلاف شروع کی گئی اس تحریک میں ملک بھر کے نوجوان اور طلبہ شامل ہونے لگے ہیں اور یہ مسئلہ انتہائی سنگین مسئلہ بن چکا ہے لیکن اس کے باوجود مرکزی حکومت کی جانب سے اختیار کردہ خاموشی سے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ حکومت نوجوانوں کے مستقبل سے کھلواڑ کرنے والوں کے خلاف کوئی کاروائی کرنا نہیں چاہتی ۔ انہوں نے بتایا کہ ’کاکروچ جنتا پارٹی ‘ نے جو مہم شروع کی ہے اس کے مطابق 20جون تک کی مہلت حکومت کو دی گئی ہے اور اگر 20 جون سے قبل مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان مستعفی نہیں ہوتے تو ایسی صورت میں دہلی میں دوبارہ احتجاج میں شدت پیدا کرنے کے اقدامات کئے جائیں گے اور 20جون کے بعد ملک بھر سے نوجوانوں کو دہلی پہنچنے کی اپیل کرتے ہوئے حکومت پر دباؤ بنایا جائے گا۔سونم وانگ چک نے بتایا کہ ملک میں دقیانوسی تعلیمی نظام جو برباد ہوچکا ہے اسے درست کرنے کے لئے نوجوانوں کو آگے آنے کی ضرورت ہے کیونکہ حکومتوں کی جانب سے تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کے سلسلہ میں کسی بھی طرح کے کوئی اقدامات نہیں کئے جا رہے ہیں۔ دھرنا چوک پر منعقد ہ’کاکروچ جنتا پارٹی ‘ کے اس احتجاجی مظاہرہ میں ہزاروں کی تعداد میں طلبہ نے شرکت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کو یقینی بنائے یا انہیں مرکزی کابینہ سے خارج کرنے کے اقدامات کرے۔ پروفیسر ناگیشور راؤ نے ’کاکروچ جنتا پارٹی ‘ کے اس احتجاجی مظاہرہ میں شرکت کرتے ہوئے احتجاجی طلبہ سے مخاطب کیا اور کہا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھلواڑ کرنے والوں کو سبق سکھانے کے لئے طلبہ خود سڑک پر نکل آئے ہیں جو کہ مستقبل قریب میں GenZتحریک میں تبدیل ہونے جا رہی ہے۔ پروفیسر ناگیشور راؤ نے کہا کہ کسی بھی ملک میں تعلیم کے نظام کو اگر تباہ کیا جاتا ہے تو وہ صرف ایک نظام کی تباہی نہیں بلکہ ملک کے نوجوانوں کے مستقبل اور ملک کے مستقبل کی تباہی ثابت ہوتا ہے ۔ انہو ںنے بتایا کہ مرکزی حکومت امتحانات کے انعقاد میں ناکام ہوتے ہوئے یہ ثابت کررہی ہے کہ ملک کا تعلیمی نظام مکمل طورپر تباہ ہوچکا ہے اور اس تعلیمی نظام کو بہتر بنائے جانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ریاستی جامعات کی حالت اور ان میں موجود عملہ کی قلت کے مسئلہ کا بھی تذکرہ کیا ۔ احتجاج میں شامل نوجوانوں نے اس دھرنے کے آغاز سے قبل تلگو زبان میں نغمے پیش کرنے کے علاوہ روایتی انقلابی رقص کا مظاہرہ کیا۔
