آئی ٹی کمپنیوں کے اوقات کار میں تبدیلی کے اقدامات

ہائی ٹیک سٹی ‘ گچی باؤلی ‘ کونڈاپور‘ کے علاوہ اطراف و اکناف کے علاقوں میں موجود انفارمیشن ٹکنالوجی کمپنیوں کے اوقات کار میں تبدیلی لانے کے اقدامات کئے جائیں گے! بتایا جاتاہے کہ شیخ پیٹ تا مہدی پٹنم‘ سائبر سٹی تا کوکٹ پلی ‘ کے علاوہ جوبلی ہلز سے مہندرا ہلز ‘ یوسف گوڑہ ‘ امیر پیٹ کی سڑکوں پر ٹریفک جام کے مسائل سے نمٹنے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کے سلسلہ میں عہدیداروں نے مختلف کمپنیوں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ذمہ داروں کے ہمراہ اجلاس منعقد کرنے کی تیاریاں شروع کردی ہیں اور کہا جارہاہے کہ بارش کے ساتھ ہی ان علاقوں میں ٹریفک جام کی شکایات کے علاوہ عام دنوں میں بھی ہونے والی شکایات کو دور کرنے کے لئے مطالعہ کے بعد ٹریفک پولیس کے ذمہ داروں اور شہری منصوبہ بندی سے تعلق رکھنے والے عہدیداروں اور ’حیڈرا‘ کے ذمہ داروں نے کمپنیوں سے مشاورت کے بعد کمپنیوں کے اوقات کار میں معمولی تبدیلیوں کی منصوبہ بندی شروع کردی ہے۔ ذرائع کے مطابق ان اہم اور مصروف ترین سڑکوں پر ایک ہی وقت میں ہزاروں گاڑیوں اور مسافرین کی موجود گی کے سبب پیدا ہونے والے مسائل کو دیکھتے ہوئے کہا جا رہاہے کہ کمپنیوں کے اوقات کار میں 30 منٹ فرق کیا جائے تو ان مسائل کو بڑی حد تک حل کیا جاسکتا ہے لیکن بین الاقوامی کمپنیوں کے ذمہ داروں کا کہناہے کہ کمپنیوں کے اوقات کار مقامی اوقات کے مطابق یا مقامی اصولوں اور مسائل کی بنیاد پر نہیں رکھے جاسکتے کیونکہ بین الاقوامی کمپنیوں کے اوقات کار میں تبدیلی لانا ممکن نہیں ہے ۔ شہر حیدرآباد میں خدمات انجام دینے والے سرکردہ انفارمیشن ٹکنالوجی کمپنی میں خدمات انجام دینے والے ایک ذمہ دار نے کہا کہ انفارمیشن ٹکنالوجی کمپنی کوئی اسکول یا کالج نہیں ہے جس کے اوقات کار مقامی پولیس یا ٹریفک کے مسائل کو نظر میں رکھتے ہوئے تبدیل کئے جائیں ۔ ان کا کہناہے کہ کمپنیوں اور ان میں خدمات انجام دینے والے ملازمین کو محفوظ اور ٹریفک سے پاک سڑک کی فراہمی انتظامیہ کی ذمہ داری ہے لیکن شہر کی سڑکوں کو ٹریفک سے پاک بنانے کے لئے بھی اگر بین الاقوامی کمپنیوں کے اوقات کار کو تبدیل کرنے کے لئے دباؤ ڈالا جاتا ہے تو ایسی صورت میں شہر حیدرآباد کی عالمی سطح پر بدنامی ہوگی ۔بتایاجاتا ہے کہ ان کمپنیوں کی جانب سے ملازمین کو فراہم کی جانے والی پک اپ و ڈراپ کی سہولتوں کو محدود کرنے اور سڑک کے کنارے پارکنگ نہ کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے جاری کی گئی نوٹسیں غیر واضح ہیں کیونکہ بیشتر سرکردہ کمپنیوں کے پک اپ اور ڈراپ ان کی کمپنیوں کے اندرونی حصوں میں ہی ہوتی ہے اسی لئے سڑک پر گاڑیوں کی پارکنگ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
