ڈی ناگیندر کے بعد دیگر منحرف ارکان اسمبلی کے مستقبل پر بھی تجسس

رکن اسمبلی بانسواڑہ مسٹر پوچارام سرینواس ریڈی کی سیاسی حیثیت ایک بار پھر موضوعِ بحث بن گئی ہے۔ پارٹی سے انحراف کے معاملے میں کل تلنگانہ ہائی کورٹ کی جانب سے خیریت آباد کے رکن اسمبلی دانم ناگیندر کو نااہل قرار دیے جانے کے بعد دیگر ارکان اسمبلی کے مستقبل پر بھی تجسس بڑھ گیا ہے۔ دانم ناگیندر بی آر ایس کے ٹکٹ پر کامیاب ہونے کے بعد کانگریس میں شامل ہوئے تھے اور بعد ازاں پارلیمانی انتخابات میں کانگریس امیدوار کی حیثیت سے مقابلہ کیا تھا، جسے عدالت نے ان کے معاملے میں اہم بنیادوں میں شمار کیا۔ اس فیصلے کے بعد پارٹی سے انحراف کرنے والے دیگر ارکان اسمبلی کے خلاف کیا فیصلہ ہوگا، اس پر سیاسی حلقوں میں بحث جاری ہے۔ اسپیکر گڈم پرساد نے اس سے قبل یہ کہتے ہوئے مقدمات خارج کردیئے تھے کہ ارکان اسمبلی کے پارٹی تبدیل کرنے کے قابلِ قبول شواہد موجود نہیں ہیں، جس سے متعلقہ ارکان نے راحت کی سانس لی تھی۔ تاہم بی آر ایس نے اس فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے عدالت سے رجوع کیا اور دانم ناگیندر کے معاملے میں اسے پہلی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ اس پس منظر میں کاماریڈی ضلع کے بانسواڑہ رکن اسمبلی پوچارم سرینواس ریڈی کا معاملہ متحدہ نظام آباد ضلع میں خاصی دلچسپی کا باعث بن گیا ہے۔ بی آر ایس کے سربراہ کے چندرشیکھر راؤ سمیت پارٹی کے اہم قائدین پوچارم کے پارٹی چھوڑنے پر ناراضگی کا اظہار کرچکے ہیں، جبکہ ضلع کے بی آر ایس قائدین نے بھی ان کے خلاف سیاسی حکمت عملی اختیار کی تھی۔ ایک مرحلے پر پوچارم کے دوبارہ بی آر ایس میں واپسی کی قیاس آرائیاں سامنے آئی تھیں، تاہم پارٹی قائدین نے اس سلسلے میں محتاط رویہ اختیار کیا۔ سابق رکن اسمبلی باجی ریڈی گوردھن نے بانسواڑہ میں پوچارم کی واپسی کی مخالفت کرتے ہوئے سخت تنقید کی تھی، جبکہ بالکنڈہ کے رکن اسمبلی مسٹر پرشانت ریڈی کے بارے میں بھی یہ اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ انہوں نے پوچارم کی دوبارہ بی آر ایس میں شمولیت کی مخالفت کی۔ بی آر ایس قائدین نے بتایا کہ پوچارم اگرچہ تکنیکی بنیادوں پر نااہلی سے بچ گئے ہیں، تاہم پارٹی میں ان کے لیے دوبارہ جگہ نہیں ہے۔ دوسری جانب حال ہی میں پوچارم کی جانب سے کانگریس حکومت کے طرزِ حکمرانی پر تنقید کیے جانے سے بھی سیاسی حلقوں میں مختلف قیاس آرائیاں شروع ہوگئی تھیں، تاہم بعد میں چیف منسٹر ریونت ریڈی سے ان کی ملاقات کے بعد صورتحال میں ایک نیا موڑ آیا۔ پوچارم نے خود کو براہِ راست کانگریس کا رکن قرار نہیں دیا، جبکہ بی آر ایس بھی انہیں اپنا رکن اسمبلی تسلیم نہیں کرتی۔ اب ہائی کورٹ کے تازہ فیصلے کے بعد نااہلی کا معاملہ ایک مرتبہ پھر زیرِ بحث آگیا ہے۔ بی آر ایس نے واضح کیا ہے کہ باقی نو ارکان اسمبلی کو بھی نااہل قرار دیے جانے تک قانونی جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔ دوسری جانب پوچارم کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ان کے قائد کو کسی قسم کا خطرہ لاحق نہیں ہے، کیونکہ انہوں نے کانگریس کی رکنیت حاصل نہیں کی اور نہ ہی کانگریس کا کھنڈوا پہنا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اسپیکر کے سامنے دی گئی وضاحت میں بھی پوچارم نے اسی نکتے کا حوالہ دیا تھا۔ پوچارام سرینواس ریڈی قبل از ریاستی وزیر کی حیثیت سے خدمات انجام دینے کے علاوہ وہ اسمبلی اسپیکر کے عہدے پر بھی فائز رہ چکے ہیں اور ایک سینئر رکن اسمبلی ہونے کے ناطے انہیں ایوان کے قواعد و ضوابط کا بخوبی علم ہے، اس لیے ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے تمام معاملات میں قانونی اور تکنیکی احتیاط برتی ہے۔ تاہم حال ہی میں کارکنوں کے ساتھ ایک غیر رسمی ملاقات میں پوچارم کی جانب سے دیے گئے بیانات کو ان کے سیاسی مخالفین کی جانب سے موضوعِ بحث بنایا جارہا ہے۔ اس صورتحال کے باعث بانسواڑہ کا سیاسی معاملہ ضلع کی سیاست میں خاصی دلچسپی کا باعث بن گیا ہے۔ طویل سیاسی تجربہ رکھنے والے پوچارم کو اس طرح کی صورتحال کا سامنا کرنے پر ان کے حامی تشویش کا اظہار کررہے ہیں، جبکہ کانگریس کے ایک گروپ کی جانب سے ان کے خلاف کارروائی اور نااہلی کا مطالبہ کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آرہی ہیں۔
