کانگریس اقلیتی فنڈس خرچ کرنے میں ناکام، مجلس مسائل پر لڑنے سے قاصر۔ شیخ عبداللہ سہیل

بی آر ایس کے سینئر قائد شیخ عبداللہ سہیل نے کانگریس حکومت اور مجلس پر اقلیتوں کے مسائل اور فلاح و بہبود کے معاملے میں دوہری ناکامی کا الزام عائد کیا ہے۔ حال ہی میں ختم ہونے والے اسمبلی کے اجلاس نے ایک طرف جہاں کانگریس حکومت کے فنڈز جاری نہ کرنے اور ناقص کارکردگی کو بے نقاب کیا ہے۔ وہی دوسری طرف مجلس کی جانب سے حکومت کو جھجھوڑنے حساب کے ساتھ جوادہی طلب کرنے میں ناکام رہنے کا الزام عائد کیا ہے۔ شیخ عبداللہ سہیل نے حکومت کے اپنے جاری کردہ اعدادوشمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ پچھلے دو مالیاتی سال میں اقلیتی بہبود کی اسکیمات کیلئے مختص کردہ 5,100.97 کروڑ روپئے میں سے صرف 1,972.17 کروڑ روپئے ہی خرچ کئے گئے ہیں جوکہ جملہ بجٹ کا صرف 38.7 فیصد ہے۔ انہوں نے تشویش ظاہر کی کہ بجٹ کا تقریباً دوتہائی حصہ خرچ نہیں ہوا جبکہ پچھلے مالیاتی سال میں بھی 2,844.2 کروڑ کے مقابلے میں صرف 1,010.63 کروڑ روپئے (35.5 فیصد) ہی جاری ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ فیس ریمبرسمنٹ اور اسکالرشپس کی ہزاروں کروڑ روپئے کی زیرالتواء بقایاجات اس بات کا واضح ثبوت ہیکہ حکومت طلبہ بالخصوص اقلیتی طلبہ کے تئیں کس قدر بے حس ہے۔ شیخ عبداللہ سہیل نے کہا کہ حکومت اقلیتی آبادی کے تناسب 14.27 فیصد کے مطابق بجٹ مختص کرنے سے بھی قاصر ہے۔ انہوں نے کہاکہ کانگریس بڑے اعلانات کرتی ہے اور بجٹ دستاویزات میں انتہائی متاثر اعدادوشمار دکھاتی ہے لیکن یہ رقم زمین تک بالکل بھی نہیں پہنچتی۔ کاغذوں تک محدود رہ جانے والی مختص رقم نہ کسی طالب علم کو تعلیم دے سکتی ہے نہ کسی غریب خاندان کی مالی مدد کرسکتی ہے اور نہ ہی روزگار پیدا کرسکتی ہے۔ اس طرح کی شدید غفلت ماضی میں کبھی نہیں ہوئی جیسے اب دیکھنے کو مل رہی ہے۔ شیخ عبداللہ سہیل نے مجلس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اپنے آپ کو مسلمانوں کی آواز قرار دینے والی یہ جماعت صرف چند سوال کرتے ہوئے یہ جتانے کی کوشش کرتی ہیکہ اس نے بہت بڑا کام کیا ہے۔ اقلیتی بہبود کے غیر استعمال بجٹ کے بارے میں حکومت سے سوال کرنا بھی گوارہ نہیں کرتی۔ اس کی آواز صرف اس وقت نکلتی ہے جب اسمبلی کا مائیکرو فون آن ہوتا ہے۔ سڑکوں پر نکل کر احتجاج کرنے سے گریز کرتی ہے۔ احتساب کوئی موسمی چیز نہیں ہوسکتی۔ انہوں نے وقف املاک کی سیکشن 22A کے تحت تنازعات، سروے اور غلطیوں کے حل میں دونوں جماعتوں کے موقف کی مذمت کی۔
