شمس آباد اور اطراف و اکناف کے سینکڑوں افراد بی آر ایس میں شامل

TOP_10-19

شمس آباد میں بی آر ایس پارٹی آفس میں بی آر ایس کارگذار صدر کے ٹی آر کی قیادت میں شمس آباد منی کنڈہ اور پپلا گوڑکے کانگریس قائدین نے بھاری تعداد میں بی آر ایس پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ بی آر ایس میں شامل ہونے والوں میں سابق سرپنچ، سابق کونسلرس اور سابق ایم پی ٹی سی ممبرس کے علاوہ پارٹی کے قائدین بھی شامل ہیں۔ کے ٹی آر نے پارٹی میں شامل ہونے والے قائدین کو پارٹی کھنڈوا پہناکر استقبال کیا۔ اس موقع پر کے ٹی آر نے کہاکہ کانگریس حکومت سے عوام بیزار ہوچکے ہیں۔ ریونت ریڈی حکومت عوام سے کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام ہوچکی ہے۔ کانگریس حکومت صرف عوام کو دھوکہ کے سوا کچھ نہیں دے رہی ہے۔ گنیش نمرجن کے دوران عوام نے ’’دیکھ لیں گے‘‘ اور کے سی آر کی واپسی کے گانے لگاکر بتادیا کہ کے سی آر آج بھی عوام کے دلوں میں ہیں۔ ان گانوں پر حیدرآباد کمشنر وی سی سجنار نے اعتراض کیا۔ کے ٹی آر نے کہاکہ پولیس عوام کی حفاظت کے لئے ہے لیکن وہ کانگریس کے لئے کام کررہی ہے۔ کے سی آر کے گانوں پر سٹی کمشنر کو اعتراض کرنا کہاں تک درست ہے۔ کے ٹی آر نے کہاکہ کانگریس حکومت کے پاس مچھرکش دوامارنے کے لئے رقم نہیں ہے لیکن وہ فیوچر سٹی بنانے کا خواب دیکھ رہی ہے۔ ریاست بھر میں پانی کی شدید قلت ہورہی ہے۔ اس مسئلہ کو حل کرنے میں ناکام ہوچکی ہے۔ پانی کی قلت کی وجہ سے کسان اور عوام پریشان ہیں۔ کے ٹی آر نے کہاکہ ریاست میں بی آر ایس دن بہ دن مضبوط بنتی جارہی ہے اور دو سال بعد بی آر ایس اقتدار پر آئے گی۔ اس کے بعد تمام حساب لیا جائے گا۔ انھوں نے راجندر نگر رکن اسمبلی پرکاش گوڑ پر الزام عائد کیاکہ وہ پارٹی بدلنے کے ساتھ ساتھ لینڈ سیٹلمنٹ بھی کررہے ہیں۔ پارٹی کے اقتدار کے آنے کے بعد پارٹی تبدیل کرنے والے اور اراضیات پر قبضہ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ کے ٹی آر نے کہاکہ شہر میں میٹرو ٹرین کا منصوبہ بی آر ایس کا تھا لیکن اقتدار جانے کی وجہ سے اسے مکمل نہیں کیا جاسکا۔ کے ٹی آر نے کہاکہ کانگریس قائدین کی بڑی تعداد بی آر ایس میں شامل ہورہی ہے۔ ریاست میں پہلی مرتبہ ایسا ہورہا ہے کہ برسر اقتدار پارٹی کے قائدین بڑی تعداد میں اپوزیشن پارٹی میں شامل ہورہے ہیں۔ اس موقع پر سبیتا اندرا ریڈی، جگدیشور ریڈی، سرینواس گوڑ سابق وزراء کوشک ریڈی رکن اسمبلی، نوین ریڈی ایم ایل سی، کارتک ریڈی و دیگر قائدین موجود تھے۔