مجموعی گھریلو پیداوار اور قوت خرید کے اعتبار سے دنیا کی مضبوط معیشتوں کا انتخاب

دنیا کی مضبوط اور مستحکم معیشتوں میں چین، امریکہ اور ہندوستان کو نمایاں فوقیت حاصل ہے۔ 2026ء میں گھریلو مجموعی پیداوار اور کرنسی کی دیگر ممالک سے مسابقت کے ذریعہ مستحکم معیشتوں کا انتخاب کیا گیا۔ گھریلو مجموعی پیداوار کے اعتبار سے اگرچہ امریکہ کی معیشت مضبوط ہے لیکن قوت خریدی کے اعتبار سے چین 44.55 ٹریلین ڈالر معیشت کے ساتھ سرفہرست ہے۔ مساوی قوت خرید کے ذریعہ مختلف ممالک کی کرنسیوں کی اصل قدر کا موازنہ اِس بنیاد پر کیا جاتا ہے کہ ایک جیسی چیزیں اور خدمات ہر ملک میں کس لاگت میں دستیاب ہیں۔ مساوی قوت خرید یا قوت خرید کی شرح کا تعین اِس بنیاد پر ہوتا ہے کہ کسی ایک ملک کی کرنسی ایک اکائی دوسرے ملک میں کتنی خریدی کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ضروری اشیاء کی مختلف ممالک میں قوت خرید کی پیمائش کرتے ہوئے معیشتوں کا انتخاب عمل میں آتا ہے۔ مستحکم معیشتوں میں جن ٹاپ 10 ممالک کو شامل کیا گیا اُن میں امریکہ دوسرے اور ہندوستان تیسرے نمبر پر ہے۔ سروے کے مطابق قوت خرید کے اعتبار سے امریکہ 32.64 ٹریلین ڈالر کے ساتھ دوسرے مقام پر ہے جبکہ مجموعی گھریلو پیداوار 32.64 ٹریلین ڈالر ریکارڈ کی گئی اور اِس اعتبار سے امریکہ سرفہرست ہے۔ مجموعی گھریلو پیداوار سے زیادہ مختلف ممالک میں کرنسیوں کی لاگت اور قوت خرید کو اہمیت حاصل ہے۔ ہندوستان 19.19 ٹریلین ڈالر کے ساتھ قوت خرید گھریلو پیداوار میں تیسرے نمبر پر ہے۔ اِس فہرست میں جرمنی، جاپان، برطانیہ، فرانس، روس، اٹلی اور برازیل شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق مجموعی گھریلو پیداوار اور قوت خرید سے کسی بھی ملک کی معیشت کے استحکام کا بخوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ حالیہ چند برسوں میں ہندوستان نے گھریلو مجموعی پیداوار میں دیگر ممالک سے بہتر مظاہرہ کیا ہے اور کرنسی کے تقابل اور قوت خرید کے معاملہ میں بھی ہندوستانی معیشت کا مظاہرہ بہتر رہا۔ معیشت کے استحکام کے ذریعہ ضروری اشیاء اور خاص طور پر غذائی اجناس کی مختلف ممالک میں یکساں قیمتوں کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ ایک ملک کی کرنسی کے اعتبار سے دوسرے ملک میں غذائی اشیاء کی خریدی کی بنیاد پر ممالک کی معیشت کا تعین کیا جاتا ہے۔
