سی ایم کیمپ آفس کی تعمیر کے لیے 100 کروڑ خرچ کرنے ہریش راؤ کا الزام

TOP_9

اسمبلی میں بی آر ایس کے ڈپٹی لیڈر اور رکن اسمبلی ٹی ہریش راؤ نے کانگریس حکومت میں بدعنوانیوں اور بے قاعدگیوں کے عروج کا الزام عائد کیا اور کہاکہ کسی بھی کام کی تکمیل کے لئے کمیشن کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ سدی پیٹ ضلع کے گجویل میں راشن ڈیلرس کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ہریش راؤ نے کہاکہ سیول سپلائز کارپوریشن میں ایک لاکھ کروڑ کا قرض حاصل کیا گیا ہے۔ ترقیاتی کاموں کیلئے حکومت کی جانب سے فنڈس کی عدم اجرائی کا الزام عائد کرتے ہوئے ہریش راؤ نے رکن اسمبلی انیرودھ ریڈی کے بیان کا حوالہ دیا اور کہاکہ کانگریس رکن اسمبلی نے خود کہا ہے کہ وہ ترقیاتی فنڈس کی اجرائی کیلئے مرن برت کیلئے تیار ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ ریونت ریڈی حکومت کے غلط فیصلوں کے نتیجہ میں سیول سپلائز کارپوریشن ایک لاکھ کروڑ کے قرض میں مبتلا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ چیف منسٹر کے کیمپ آفس کی تعمیر کیلئے 100 کروڑ روپئے خرچ کئے جارہے ہیں جبکہ کمپاؤنڈ وال کی تعمیر پر 18 کروڑ خرچ ہوں گے۔ اُنھوں نے کہاکہ حکومت کے پاس چیف منسٹر کیمپ آفس کی تعمیر کیلئے فنڈس موجود ہیں لیکن ریاست کے 17200 ڈیلرس کو ماہانہ اعزازیہ کے طور پر ادائیگی کیلئے 10 کروڑ دستیاب نہیں ہے۔ انتخابات سے قبل 5000 روپئے اعزازیہ اور 300 روپئے کمیشن کا وعدہ کیا گیا تھا جو آج تک پورا نہیں ہوا۔ اُنھوں نے کہاکہ ریاست کے راشن ڈیلرس اپنے مطالبات کی یکسوئی کے لئے متحدہ جدوجہد کے لئے تیار ہیں۔ اجلاس میں 33 اضلاع سے تعلق رکھنے والے راشن ڈیلرس نے شرکت کی اور اپنے دیرینہ مطالبات پیش کئے۔ رکن اسمبلی جی مہی پال ریڈی، رکن کونسل ڈاکٹر یادو ریڈی اور بی آر ایس کے مقامی قائدین اِس موقع پر موجود تھے۔