دہلی کی ووٹ بچاؤ ۔ دیش بچاؤ ریالی کیلئے تلنگانہ سے 15 ہزار کارکنوں کی روانگی

کانگریس کی جانب سے یکم نومبر کو نئی دہلی کے رام لیلا میدان میں ہونے والے ’ ووٹ بچاؤ ۔ دیش بچاؤ ‘ ریالی میں شرکت کیلئے ریلویز نے خصوصی ٹرین چلانے سے انکار کردیا ہے ۔ جس کے بعد صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی مہیش کمار گوڑ نے ایک کوآرڈینیشن کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے پارٹی قائدین اور کارکنوں کے ٹرانسپورٹ ، دہلی میں قیام کے انتظامات کرنے اہم ذمہ داری کمیٹی کے حوالے کردی ہے ۔ تلنگانہ سے 15 ہزار سے زائد قائدین اور کارکنوں کو دہلی لے جانے کا حدف تلنگانہ کانگریس کی قیادت کیلئے بڑا چیلنج بن گیا ہے جس کا سنجیدگی سے جائزہ لینے کے بعد ایک کوآرڈینیشن کمیٹی تشکیل دی گئی ہے ۔ جس میں ریاستی وزراء پونم پربھاکر ، وی سری ہری ، ارکان پارلیمنٹ چملاکرن کمار ریڈی ، ڈاکٹر ملو روی اور بلرام نائیک کو کمیٹی کا حصہ بنایا گیا ہے ۔ ضلع کانگریس کمیٹیوں کے صدور کو فوری اپنے اضلاع سے دہلی جانے والے قائدین اور کارکنوں کی قطعی فہرست اور رپورٹس پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ دہلی تک پارٹی قائدین اور کارکنوں کی منتقلی میں کانگریس قیادت کو مختلف سفری رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ کانگریس ذرائع سے پتہ چلا کہ پردیش کانگریس کی جانب سے درخواست کے باوجود ریلوے حکام نے تلنگانہ سے دہلی کیلئے خصوصی ٹرین چلانے سے انکار کردیا ہے ۔ انڈیا اتحاد کی دہلی ریالی کے باعث ہوئی سفر کی مانگ میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے ۔ جس کے نتیجے میں حیدرآباد تا دہلی ون وے فلائیٹ ٹکٹ کی قیمت 20 ہزار روپئے تک پہونچ چکی ہے ۔ ریلوے اور فضائی سفر کی مشکلات کے پیش نظر تلنگانہ پردیش کانگریس نے تمام اضلاع سے سینکڑوں بسیں حاصل کر کے بذریعہ بس دہلی روانہ ہونے کا فیصلہ کیا ہے ۔ حیدرآباد سے دہلی تک بس کا سفر 36 گھنٹے یا اس سے زائد کا ہوگا ۔ اگر بسوں کا یہ منصوبہ حتمی شکل اختیار کرلیتا ہے تو تلنگانہ سے تمام قائدین کو 30 اکٹوبر کو ہی دہلی کیلئے روانہ ہونا پڑے گا تاکہ وہ یکم نومبر کے پروگرام تک بروقت پہونچ سکیں ۔
