شناخت کی چوری کے ذریعہ جرائم کے رجحان میں اضافہ

TOP_7-2

ملک میں ڈیٹا کی چوری اور سائبر جرائم کے رجحان میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ حالیہ عرصے میں مرکزی اور ریاستی حکومتوں نے ڈیٹا کے سرقہ کو روکنے کے لیے نئی ٹیکنالوجی کو اختیار کرنے کا مختلف اداروں کو مشورہ دیا ہے۔ سائبر جرائم سے نمٹنے کے لیے خصوصی سل قائم کیے جا رہے ہیں۔ حالیہ عرصے میں ملک میں شناخت کے سرقہ اور ڈیٹا کی چوری کے ذریعے جو واقعات پیش آئے ، ان میں کرناٹک سرفہرست ہے۔ 2005ء میں کرناٹک میں 2500 ایسے واقعات پیش آئے جن میں ڈیٹا کی چوری کے ذریعے جرائم کو انجام دیا گیا۔ اس معاملے میں تلنگانہ دوسرے نمبر پر ہے ، جہاں ایک سال میں 2100 واقعات پیش آئے۔ اتر پردیش اور مہاراشٹر میں بالترتیب 1200 اور ایک ہزار واقعات کی اطلاعات ملی ہیں۔ دہلی، تمل ناڈو اور گجرات میں بھی ڈیٹا کے سرقہ کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ ان تینوں ریاستوں میں بالترتیب 800، 600 اور 500 کیسیس درج کیے گئے۔ آندھرا پردیش، بہار، راجستھان اور ہریانہ بھی ان واقعات میں کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔ ان ریاستوں میں بالترتیب 400، 350، 250 اور 300 واقعات پیش آئے۔ حکومتوں کی سطح پر ڈیٹا چوری کے واقعات کو روکنے پر خصوصی طور پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سائبر سیکوریٹی میں اضافے کے ساتھ ساتھ سائبر مجرمین کی سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ٹیکنالوجی کی ترقی کے اس دور میں سائبر جرائم کے بڑھتے ہوئے رجحان نے عوام کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ عوام کے لیے ان جرائم سے بچنا آسان نہیں ہے۔