آئی ٹی کے بعد اے آئی کے شعبہ میں نمایاں شناخت

ٹیکنالوجی کی ترقی کے نتیجے میں کئی شعبہ جات میں خدمات کو بہتر بنانے میں مدد ملی ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے بعد آرٹیفیشل انٹیلیجنس نے اس شعبے میں اپنی نمایاں شناخت بنائی ہے۔ انسان نما روبوٹ بھی مختلف شعبہ جات میں استعمال کیا جا رہا ہے ، اور ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کے بہتر نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ میڈیکل کے شعبے میں بھی روبوٹک سرجری نے مقبولیت حاصل کی ہے۔انسان نما روبوٹ یا مشینی انسان کے مختلف شعبہ جات میں استعمال کے سلسلے میں عالمی سطح پر سروے کیا گیا۔ سروے میں پتہ چلا ہے کہ دنیا بھر میں تفریحی صنعت اور تفریحی شعبے میں پرفارمنس کے لیے انسان نما روبوٹ کا زیادہ استعمال ہو رہا ہے۔ مشینی انسان کا 33.6 فیصد استعمال تفریحی شعبے میں دیکھا گیا ہے۔ ڈیٹا پروڈکشن اور ریسرچ کے شعبے میں انسان نما روبوٹ کا استعمال ستائیس فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ مختلف خدمات اور گائیڈنس کے شعبے میں انیس فیصد استعمال ریکارڈ ہوا ہے۔ انٹلی جنٹ مینوفیکچرنگ، ویئرہاؤسنگ، لاجسٹکس اور دیگر شعبہ جات میں بھی انسان نما روبوٹ کا استعمال دو تا بارہ فیصد ریکارڈ ہوا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ انسان نما روبوٹ کے استعمال سے مختلف خدمات کو بہتر بنانے میں مدد ملی ہے۔ عالمی سطح پر کمپنیوں میں صارفین کی رہنمائی کے لیے انسان نما روبوٹ کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ کئی کمپنیوں میں مختلف معلومات کی فراہمی کے لیے روبوٹ کی خدمات کو استعمال کیا گیا۔ کئی بین الاقوامی ایئرپورٹس پر بھی انسان نما روبوٹ دکھائی دے رہے ہیں، جو مسافروں کی رہنمائی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مختلف خدمات میں مشینی انسان کے استعمال میں اضافہ ہوگا۔ یہ اضافہ کس حد تک فائدہ مند رہے گا، اس بارے میں ماہرین ریسرچ میں مصروف ہیں۔زندگی کے مختلف شعبہ جات میں انسان نما روبوٹ کے استعمال میں اضافہ۔ تفریحی سرگرمیوں میں زیادہ استعمال۔ مشینی انسان سے خدمات میں بہتری کا امکان۔
