مسجد کے میناروں پر بھگوا پرچم۔ بھینسہ میں ہندو نوجوان کی شر انگیزی

حساس ٹاون بھینسہ میں آج رات تقریباً 11/بجے اس وقت کشیدگی پھیل گئی جب پتہ چلا کہ ایک شرپسند ہندونوجوان نے شوشل میڈیا (انسٹاگرام) کی اپنی آئی ڈی بھینسہ والا پر ایڈیٹ کردہ ایک ویڈیو پوسٹ وائرل کیا جس میں مرکزی مسجد پنجہ شاہ کی میناروں پر ایڈیٹ کرتے ہوئے بھگوا جھنڈا لہراتے ہوئے جے آیس آر کے نعرے بلند کرتے ہوئے ویڈیو اپ لوڈ کردیا۔ یہ ویڈیو شوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا۔ اس پوسٹ کو دیکھنے کے بعد مسلم نوجوانوں میں شدید برہمی پیدا ہوگئی اور مسلم نوجوانوں نے صبر وتحمل کامظاہرہ کرتے ہوئے سیدھا پولیس اسٹیشن پہنچ کر اس خاطی کے خلاف سخت کاروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس دوران مسجد پنجہ شاہ کمیٹی کے صدر عبدالواجد بنارسی اور معاون رکن بلدیہ ابراہیم (ابراہیم بلڈر) نے علیحدہ علیحدہ شکایات پولیس اسٹیشن میں درج کرائیں۔ بعدا زاں ایڈیشنل ایس پی کانتی لال سبھاش پاٹل نے برہم مسلم نوجوانوں سے بات کرتے ہوئے انہیں اس بات کا تیقن دیا کہ وہ پرامن ماحول کومکدرکرنے والے شرپسندہندو نوجوان کے خلاف سخت کاروائی کریں گے اوربہت جلد اس کوگرفتار کرتے ہوئے اس کے خلا ف کاروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ ایسے شرپسندوں کے خلا ف پولیس سخت رویہ اختیا رکرے گی اور کسی کو بھی بخشانہیں جائیگا۔ بعدازاں مسجد کمیٹی صدر عبدالواجد بنارسی اور ابراہیم بلڈر کی درخواست پر پولیس کی جانب سے مقدمہ درج کرلیا گیا اور خاطی کو پکڑنے کیلئے پولیس ٹیم کو متحرک کردیا گیا۔ اس موقع پر اے ایس پی پاٹل نے عوام سے اپیل کی کہ وہ افواہوں پر توجہ دنہ یں اور پولیس سے تعاون کریں۔
