تلنگانہ میں رئیل اسٹیٹ سرگرمیاں متاثر، حکومت کی آمدنی میں کمی

c1-2

تلنگانہ میں رئیل اسٹیٹ شعبہ گزشتہ 3 برسوں سے عملاً بحران کا شکار ہے اور رئیل اسٹیٹ کی آمدنی میں انحطاط کا رجحان دیکھا جارہا ہے۔ رجسٹریشن اینڈ اسٹامپ ڈپارٹمنٹ کے مطابق رجسٹریشن کی تعداد میں کمی آئی ہے جس کے نتیجہ میں گزشتہ 2 برسوں میں رجسٹریشن سے آمدنی میں کمی درج کی گئی۔ محکمہ اسٹامپ اینڈ رجسٹریشن کو 2023-24ء میں 14588 کروڑ کی آمدنی ہوئی تھی جو 2024-25ء میں گھٹ کر 14214 کروڑ ہوچکی ہے۔ 2025-26ء میں جنوری 2026ء تک 12443.64 کروڑ آمدنی درج کی گئی۔ فبروری میں آمدنی میں کسی قدر اضافہ ہوا اور مجموعی آمدنی 13775 کروڑ تک پہونچ چکی ہے۔ محکمہ نے مالیاتی سال کے دوران 15200 کروڑ کی آمدنی کا نشانہ مقرر کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ جاریہ سال آمدنی کے نشانہ کی تکمیل ممکن نہیں ہے۔ حکومت نے 2026-27ء میں 16021 کروڑ آمدنی کا نشانہ مقرر کیا ہے۔ ریاست میں کانگریس برسر اقتدار آنے کے بعد ڈیولپرس اور بلڈرس کی سرگرمیاں متاثر ہوچکی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ مغربی ایشیاء کی صورتحال نے رئیل اسٹیٹ کی سرگرمیوں کو مزید متاثر کیا ہے۔ این آر ائیز اور کارپوریٹ شعبہ سے تعلق رکھنے والے افراد کی جانب سے اراضیات، فلیٹس اور مکانات کی خریدی کا رجحان کم ہوا ہے۔ حکومت نے فارما سٹی اور فیوچر سٹی کے قیام کے ذریعہ رئیل اسٹیٹ سرگرمیوں کو فروغ دینے کی کوشش کی لیکن حیڈرا کی انہدامی کارروائیوں نے نہ صرف خریداروں بلکہ رئیل اسٹیٹ تاجروں میں خوف کا ماحول پیدا کردیا ہے۔