بی جے پی لیڈر پروین شنکر کپور کے ہتک عزت مقدمے کی اگلی سماعت 7 اکتوبر کو

بی جے پی لیڈر پروین شنکر کپور کی طرف سے دائر مجرمانہ ہتک عزت کے مقدمے میں دہلی کی وزیر اعلیٰ آتشی مارلینا جمعرات کو راؤز ایونیو کورٹ میں پیش نہیں ہوئیں۔ آتشی کی طرف سے پیش ہونے والے وکیل نے کہا کہ ان کے مصروف پروگرام کی وجہ سے عدالت میں حاضری سے قاصر ہیں۔ جس کے بعد ایڈیشنل چیف جوڈیشل مجسٹریٹ تانیا بامنیال نے مقدمے کی اگلی سماعت 7 اکتوبر کو کرنے کا حکم دیا۔ بی جے پی لیڈر پروین شنکر کپور نے دہلی کے سابق وزیر اعلی اروند کیجریوال اور آتشی مارلینا کے خلاف مجرمانہ ہتک عزت کی درخواست دائر کی ہے۔ درخواست میں پروین شنکر کپور کی جانب سے کہا گیا ہے کہ کیجریوال اور آتشی نے بی جے پی لیڈروں پر انہیں پارٹی میں شامل کرنے کے لئے کروڑوں روپئے کی پیشکش کرنے کا الزام لگایا تھا، جب کہ ان الزامات میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ درخواست میں اروند کیجریوال کی 27 جنوری کو ٹویٹر پر کی گئی پوسٹ اور 2 اپریل کو آتشی مارلینا کی پریس کانفرنس کا ذکر کیا گیا ہے۔ پروین شنکر کپور کی جانب سے کہا گیا ہے کہ انہوں نے اپنے الزامات کے حوالے سے کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔ 28 مئی کو عدالت نے پروین شنکر کپور کی ہتک عزت کی درخواست کا نوٹس لیا تھا۔ عدالت نے اس معاملے میں اروند کیجریوال کے خلاف ابھی تک نوٹس نہیں لیا ہے۔ 23 جولائی کو عدالت نے 20,000 روپئے کے ذاتی مچلکے پر آتشی کو ضمانت دی تھی۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ کیجریوال کے ٹویٹ میں الزام لگایا گیا ہے کہ بی جے پی نے آپ کے 7 ایم ایل ایز سے رابطہ کیا ہے۔ ٹویٹ میں کہا گیا کہ بی جے پی نے 25 کروڑ روپئے کی پیشکش کی تھی تاکہ دہلی حکومت کو گرایا جا سکے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ دہلی ایکسائز گھوٹالے میں جیسے ہی آتشی کا نام آیا، انہوں نے بی جے پی پر یہ الزامات لگانے شروع کر دیے تاکہ لوگوں کی توجہ دہلی ایکسائز گھوٹالے سے ہٹائی جا سکے۔
