پرالی جلانے کے واقعات پر سپریم کورٹ نے پنجاب اور ہریانہ کو لگائی پھٹکار

سپریم کورٹ نے پرالی جلانے کے واقعات کے قصورواروں کے خلاف مناسب کارروائی نہ کرنے پر پنجاب اور ہریانہ کو پھٹکار لگائی ہے۔ ناراض عدالت نے پنجاب اور ہریانہ کے چیف سیکرٹریز کو طلب کر لیا ہے۔ جسٹس اے ایس اوکا کی صدارت والی بنچ نے دونوں ریاستوں کے چیف سکریٹریوں سے کہا ہے کہ وہ 23 اکتوبر کو حاضر ہو کر وضاحت کریں۔ عدالت نے اپنے سابقہ حکم پر عمل نہ کرنے پر ہریانہ اور پنجاب حکومتوں کی سرزنش کی اور خبردار کیا کہ اگر حکم پر عمل نہیں کیا گیا تو وہ ہریانہ کے چیف سکریٹری کے خلاف توہین کا مقدمہ دائر کرے گی۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ جس طرح معمولی جرمانے کے بعد لوگوں کو رہا کیا جا رہا ہے، اس سے پرالی جلانے کے واقعات رکنے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔
عدالت نے ایئر کوالٹی مینجمنٹ کمیشن سے کہا کہ وہ اس کی ہدایات پر عمل نہ کرنے کے قصوروار اہلکاروں کے خلاف تعزیری کارروائی کرے۔ عدالت نے کہا کہ کمیشن کا کوئی رکن فضائی آلودگی کے معاملات سے نمٹنے کا اہل نہیں ہے۔ کیا آپ نے آئی آئی ٹی جیسی کسی ماہر ایجنسی کو منسلک کیا ہے؟ پھر مرکزی حکومت کی طرف سے بتایا گیا کہ انہوں نے این ای آر ای سے ماہرین کو لیا ہے۔ تب عدالت نے کہا کہ ہم نے دیکھا ہے کہ بہت سے لوگ میٹنگ میں موجود نہیں ہیں۔ اگر ایسے ارکان ہیں تو وہ کمیٹی میں شامل ہونے کے قابل نہیں ہیں۔
سپریم کورٹ نے ہریانہ حکومت سے پوچھا کہ ریاستی حکومت پرالی جلانے کے الزام میں لوگوں پر مقدمہ چلانے سے کیوں کتراتی ہے۔ اسرو آپ کو وہ جگہ بتا رہا ہے جہاں آگ لگی تھی اور آپ کہتے ہیں کہ آپ کو کچھ نہیں ملا ۔ ہریانہ حکومت کے وکیل نے کہا کہ ہم نے اس سال تقریباً 17 ایف آئی آر درج کی ہیں۔ تب عدالت نے کہا کہ خلاف ورزی کے 191 کیسز ہوئے اور آپ نے صرف معمولی جرمانہ لگایا۔
