کونسل میں بی سی قرارداد منظور ، ایس سی زمرہ بندی کی رپورٹ پیش

n6506073351738706633625becef737e88132354c96bfaee53fa99619d8d4a5f34891e0c92d72b5378e843a

تلنگانہ قانون ساز کونسل میں تعلیمی ، سماجی، معاشی، روزگار ، سیاسی اور ذات پات پر مبنی سروے 2024 رپورٹ کے علاوہ ایس سی زمرہ بندی کی رپورٹس کو ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرامارکا نے پیش کیا۔ بی سی سروے پر احتجاج کرتے ہوئے بی آر ایس نے واک آؤٹ کیا اور ایس سی زمرہ بندی پر بھی حکومت کی نیت صاف نہ ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے احتجاج کیا۔ احتجاج کے دوران بی سی تحفظات پر پیش کردہ قرارداد کو منظوری دی گئی اور مرکزی حکومت سے سارے ملک میں بی سی مردم شماری کرانے کا مطالبہ کیا گیا۔ صدرنشین کونسل جی سکھیندر ریڈی نے ایوان کی کارروائی غیرمعینہ مدت کیلئے ملتوی کردی۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے بتایا کہ بی سی کی مردم شماری سارے ملک میں پہلی مرتبہ سائنٹفک طریقے سے ریاست تلنگانہ میں کی گئی۔ بی آر ایس کی جانب سے کے سی آر کے دور حکومت میں خاندانی سروے کرانے کا دعویٰ کرتے ہوئے مختلف طبقات کا جو تناسب پیش کیا جارہا ہے، وہ سرکاری سروے نہیں ہے ، کیونکہ اس جامع خاندانی سروے کو کے سی آر نے اسمبلی میں پیش نہیں کیا اور نہ ہی اس کا سرکاری طور پر اعلان کیا گیا۔ کانگریس کی جانب سے کیا گیا سروے سائنٹفک طریقہ کا ہے۔ پہلے پراجیکٹ کے طور پر چار اضلاع میں سروے کیا گیا، اس کے بعد اس کو ریاست بھر میں توسیع دی گئی۔ 3.56 لاکھ مکانات کا سروے میں حصہ نہیں ہے، ان میں کے سی آر، ہریش راؤ، کے ٹی آر اور دوسرے شامل ہیں۔ ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرامارکا نے کہا کہ سروے میں جو بھی اعداد و شمار حاصل ہوئے ہیں، اس کی بنیاد پر ترقیاتی اور فلاحی اسکیموں سے فائدہ پہونچایا جائے گا۔ جو لوگ سروے میں حصہ نہیں لئے اگر وہ دوبارہ حصہ لینا چاہتے ہیں تو اُنہیں ایک اور موقع فراہم کیا جائے گا۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ اس سروے پر جملہ 160 کروڑ روپئے کے اخراجات آئے ہیں۔ سروے میں حصہ لینے والے عملہ کے ایک رکن کو 10 ہزار روپئے، سوپروائزر کو 12 ہزار روپئے، منڈل نوڈل آفیسر کو 15 ہزار روپئے دیئے گئے۔ عملے کو معاوضہ کا جو الزام ہے وہ سراسر جھوٹ ہے۔