میری سیاسی زندگی میں 4 فروری تاریخی اہمیت کا حامل: ریونت ریڈی

n6506073371738707618719b7be8c0dcac80b283d1e5d2928bd843c5abd6b46cdccd6bd6f58576d340d304a

چیف منسٹر ریونت ریڈی نے ایس سی زمرہ بندی سے متعلق جسٹس شمیم اختر کمیشن کی رپورٹ کو اسمبلی میں پیش کیا اور سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق زمرہ بندی پر عمل آوری کا اعلان کیا۔ جسٹس شمیم اختر ایک رکنی کمیشن نے کل کابینی سب کمیٹی کو اپنی رپورٹ پیش کی تھی جسے آج ریاستی کابینہ نے منظوری دی۔ اسمبلی میں رپورٹ پیش کرتے ہوئے چیف منسٹر ریونت ریڈی نے کہا کہ کمیشن نے زمرہ بندی کے حق میں سفارش کی ہے۔ مختلف اضلاع کا دورہ کرتے ہوئے کمیشن نے رپورٹ تیار کی۔ درج فہرست اقوام کے مختلف گروپس سے کمیشن نے رائے حاصل کی جبکہ آن لائن بھی تجاویز حاصل کی گئیں۔ کمیشن نے 82 دنوں میں اپنی رپورٹ پیش کی ہے۔ جسٹس شمیم اختر نے 15 فیصد ایس سی تحفظات کو تین ذیلی گروپس میں تقسیم کرنے کی سفارش کی ہے۔ ایس سی میں موجود 59 ذیلی طبقات کو گروپ1،2 اور3 میں تقسیم کرنے کی سفارش کی گئی۔ گروپ 1 میں 15 ذیلی طبقات کو ایک فیصد تحفظات دیئے جائیں گے جن کی آبادی 3.2 فیصد ہے۔ گروپ 2 میں 18 ذیلی طبقات کو9 فیصد تحفظات کی سفارش کی گئی جن کی آبادی62.74 فیصد ہے۔ گروپ 3 کے تحت 26 ذیلی طبقات کو 5 فیصد تحفظات دیئے جائیں گے جن کی آبادی 33.9 فیصد ہے۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے کہا کہ 4 فروری 2025 کی تاریخ ان کی سیاسی زندگی میں ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ میری سیاسی زندگی میں اس تاریخ کی غیر معمولی اہمیت ہے، اگر مجھے کبھی ایک صفحہ لکھنا پڑے تو میں 4 فروری 2025 لکھوں گا جس دن ایس سی زمرہ بندی اور بی سی طبقاتی سروے کی رپورٹ اسمبلی میں پیش کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ آندھرا پردیش اور علحدہ تلنگانہ کے چیف منسٹرس میں کسی کو یہ اعزاز حاصل نہیں ہوا اور وہ اپنے سیاسی کیریئر میں4 فروری سنہرے حروف میں درج کریں گے۔