تہور رانا کیس : سینئر وکیل دیان کرشنن این آئی اے کی نمائندگی کریں گے

n659742778174428341477706e39621a794ba041875ca49f4060c82a23a624b152e40e3c6bc2078bef68e08

ممبئی حملوں کے ملزم تہوّر حسین رانا کی امریکہ سے ہندوستان حوالگی کے لیے دلائل دینے والے سینئر وکیل دیان کرشنن اب دہلی میں نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) کی جانب سے استغاثہ کی قیادت کریں گے۔رانا، جو کہ 26/11 حملے کے اہم سازشی ڈیوڈ کولمین ہیڈلی عرف داؤد گیلانی کا قریبی ساتھی ہے، امریکہ کی سپریم کورٹ کی جانب سے 4 اپریل کو اُس کی نظرثانی اپیل مسترد ہونے کے بعد ہندوستان آنے والا ہے۔کرشنن، جو 2010 سے اس حوالگی کیس سے وابستہ ہیں، کو استغاثہ میں اسپیشل پراسیکیوٹر نریندر مان کی معاونت حاصل ہوگی، جو کہ ایک تجربہ کار فوجداری وکیل ہیں اور پہلے سی بی آئی کی نمائندگی دہلی ہائی کورٹ میں کر چکے ہیں۔استغاثہ کی ٹیم میں ایڈووکیٹ سنجیوی شیشادری اور سری دھر کالے بھی شامل ہوں گے، جبکہ این آئی اے کے وکلا بھی ٹیم کا حصہ ہوں گے۔ذرائع کے مطابق، اس کیس میں اصل موڑ مئی 2023 میں آیا۔ رانا کے خلاف مقدمے کی شروعات 2018 میں ہوئی تھی۔ایک قریبی ذریعے نے بتایا کہ اس کی حوالگی کا سب سے اہم فیصلہ 16 مئی 2023 کو آیا، جب امریکی ریاست کیلیفورنیا کی سنٹرل ڈسٹرکٹ کی مجسٹریٹ عدالت نے ابتدائی فیصلہ دیا۔اس عدالت نے حوالگی کی اجازت دیتے ہوئے کرشنن کی رائے کو تسلیم کیا – جنہوں نے یہ مؤقف اپنایا کہ یہ کیس "ڈبل جیورڈی” یعنی دوہری سزا کا معاملہ نہیں ہے۔ذرائع نے بتایا کہ اس دوران کرشنن اور برطانیہ کے ایکسٹراڈیشن ماہر وکیل پال گارلک کیو سی کے درمیان ایک زوردار قانونی جنگ دیکھنے کو ملی۔ گارلک نے دلیل دی کہ یہ کیس ڈبل جیورڈی کا ہے، لیکن کرشنن نے مؤقف اختیار کیا کہ جرم کے عناصر ہی کیس کا تعین کرتے ہیں، نہ کہ محض ملزم کا رویہ۔قانونی اصطلاح میں ڈبل جیورڈی کا مطلب ہوتا ہے کہ کسی ملزم کو ایک ہی جرم کی دوہری سزا نہ دی جائے۔کرشنن، جو کہ حکومتِ ہند کی نمائندگی امریکی محکمہ انصاف(DOJ) کے ساتھ کر رہے تھے، ان کی دلیل عدالت نے قبول کی۔حکومتِ ہند کے لیے دوسرا اہم موقع وہ تھا جب 10 اگست 2023 کو ایک امریکی ڈسٹرکٹ جج نے رانا کی اپیل کو مسترد کر دیا۔اس فیصلے کے بعد رانا نے امریکی نویں سرکٹ کی اپیل عدالت سے رجوع کیا، لیکن 15 اگست 2024 کو اس کی درخواست ایک اور ناکامی کا شکار ہوئی۔