ہندوستان۔برازیل ہر شعبے میں تعاون کو مضبوط بناکر

برازیل کے سرکاری دورے پر گئے وزیر اعظم نریندر مودی نے منگل کی دیر رات یہاں برازیل کے صدر لولا ڈی سلوا سے ملاقات کے بعد ایک مشترکہ بیان میں یہ بات کہی۔صدر لولا کو ہندوستان۔برازیل اسٹریٹجک شراکت داری کا حامی بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے میں انہوں نے اہم رول ادا کیا ہے ۔انہوں نے کہا آج کی بات چیت میں، ہم نے ہر شعبے میں تعاون کو مضبوط بنانے کی بات کی۔ ہم نے آئندہ پانچ برسوں میں دو طرفہ تجارت کو 20 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ملک ہندوستان۔مرکوسور ترجیحی تجارتی معاہدے کی توسیع پر بھی مل کر کام کریں گے ۔ مودی نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھی دونوں ممالک کی سوچ ایک جیسی ہے ۔ دونوں ممالک نے دہشت گردی کے خلاف قطعی برداشت نہ کرنے اور دوہرے معیار کی مخالفت کرنے کی پالیسی پر اتفاق کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا واضح نظریہ ہے کہ دہشت گردی پر دوہرے معیار کی کوئی جگہ نہیں ہے ۔ ہم دہشت گردی اور دہشت گردی کی حمایت کرنے والوں کی سختی سے مخالفت کرتے ہیں۔وزیر اعظم نے انہیں اعلیٰ ترین اعزاز سے نوازنے کیلئے برازیل کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ اس اعزاز کو ہندوستان کے تئیں برازیل کی گہری وابستگی اور اٹوٹ دوستی کیلئے وقف کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا آج صدر کے مجھے برازیل کا اعلیٰ ترین قومی اعزاز عطا کیا جانا میرے لیے نہیں بلکہ 140 کروڑ ہندوستانیوں کیلئے بھی انتہائی فخر اور جذبات کا لمحہ ہے ۔ میں اس کیلئے ان کا، برازیل کی حکومت اور برازیل کے عوام کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان توانائی کے شعبے میں تعاون میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ۔ ماحولیات اور صاف ستھری توانائی دونوں ممالک کی اہم ترجیحات رہی ہیں۔ انہوں نے کہا ‘‘اس شعبے میں تعاون بڑھانے کیلئے آج طے پانے والا معاہدہ سبز اہداف کو نئی سمت اور رفتار فراہم کرے گا۔ میں صدر لولا کے تئیں اس سال برازیل میں ہونے والے کوپ-30 اجلاس کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہوں.
