بی سی تحفظات پر ہائی کورٹ میں گرماگرم مباحث، سماعت آج بھی جاری رہے گی

تلنگانہ ہائی کورٹ میں بی سی تحفظات پر آج سماعت کا آغاز ہوا اور چیف جسٹس اپریش کمار سنگھ اور جسٹس جی ایم محی الدین پر مشتمل بنچ نے آج دو مراحل میں تحفظات پر تائید اور مخالفین کے دلائل کی سماعت کی۔ چیف جسٹس نے سماعت کو کل 9 اکتوبر کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا اور دوپہر 2.15 بجے دوبارہ سماعت شروع ہوگی۔ مجالس مقامی میں پسماندہ طبقات کو 42 فیصد تحفظات کی فراہمی کے لئے حکومت نے جی او ایم ایس 9 جاری کیا جسے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے ۔ تحفظات کے حق میں اور جی او کی مخالفت میں گرما گرم مباحث دیکھے گئے اور چیف جسٹس اپریش کمار سنگھ نے بھی وکلاء سے سماعت کے دوران کئی وضاحتیں طلب کیں۔ جی او کی مخالفت کرنے والے وکلاء نے حکم التواء جاری کرنے کی درخواست کی لیکن چیف جسٹس نے قبول نہیں کیا ۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابی شیڈول جاری ہوچکا ہے اور کل 9 اکتوبر سے پہلے مرحلہ کے انتخابی عمل کا آ غاز ہوگا ، لہذا جی او کے مخالفین نے حکم التواء جاری کرنے کی درخواست کی ۔ تلنگانہ حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے سینئر وکیل ابھیشیک منو سنگھوی اور ایڈوکیٹ جنرل سدرشن ریڈی نے حکم التواء کی مخالفت کی۔ جی او کے حق میں اور مخالفت میں داخل کی گئی تمام درخواستوں کی ایک ساتھ سماعت کی جارہی ہے ۔ابھیشیک منو سنگھوی نے کہا کہ مجالس مقامی کے الیکشن کا شیڈول جاری کردیا گیا ہے، ایسے میں عدالت کو انتخابی عمل میں مداخلت کی گنجائش نہیں۔ انہوں نے الیکشن نوٹیفکیشن کی کاپی عدالت میں پیش کی اور کہا کہ اس مرحلہ پر حکم التواء مناسب نہیں ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ پسماندہ طبقات کے جامع سروے کے بعد ہی حکومت نے جی او جاری کیا ہے ۔ جی او کی مخالفت میں بی مادھو ریڈی اور ایس رمیش نے ابتداء میں درخواستیں داخل کیں جبکہ تحفظات کے حق میں آر کرشنیا ، وی ہنمنت راؤ اور بی سی تنظیموں کے قائدین مقدمہ میں فریق بن چکے ہیں۔ درخواست گزاروں کے وکلاء نے کہا کہ حکومت کو 50 فیصد تحفظات کی حد میں اضافہ کا اختیار نہیں ہے ۔ 42 فیصد تحفظات کی فراہمی سے مجموعی طور پر تحفظات 67 فیصد ہوجائیں گے ۔ عدالت کو بتایا گیا کہ 42 فیصد تحفظات کیلئے کوئی بنیاد نہیں ہے اور حکومت نے طبقاتی سروے کی تفصیلات برسر عام نہیں کی ہے ۔ ایس سی ، ایس ٹی طبقات کے تحفظات 2011 مردم شماری کے مطابق ہیں۔ درخواست گزاروں کے وکیل نے کہا کہ ایس سی ، ایس ٹی آبادی میں اضافہ کے باوجود ان کے تحفظات میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ 2018 میں بی سی طبقات کیلئے 34 فیصد تحفظات کو عدالت نے کالعدم کردیا تھا۔ ابھیشیک منو سنگھوی نے عدالت کو بتایا کہ بی سی تحفظات کے بل کی منظوری تمام سیاسی پارٹیوں کی تائید سے کی گئی ہے ۔ سیاسی وابستگی سے بالاتر ہوکر تحفظات بل کی اسمبلی میں تائید کی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی میں قانون سازی کا حکومت کو اختیار حاصل ہے اور گورنر کی جانب سے منظوری میں تاخیر مناسب نہیں۔ کئی ماہ سے تحفظات کے بلز زیر التواء ہیں۔ عوامی منتخب حکومت کے قوانین کو روکنا ٹھیک نہیں۔ گورنر دستور کی دفعہ 200 کا غلط استعمال کر رہے ہیں ۔ ابھیشیک منو سنگھوی نے کہا کہ حکومت کی جانب سے جی او نمبر 9 کے بارے میں تفصیلی حلفنامہ پیش کیا جائے گا ۔ مقدمہ کے دیگر فریقین کو کل دلائل پیش کرنے کا موقع ملے گا۔ سی پی آئی کے رکن اسمبلی کے سامبا سیوا راؤ نے بھی مقدمہ میں فریق بننے کی درخواست دائر کی ہے ۔ پہلے دن سماعت کے موقع پر ریاستی وزراء پونم پربھاکر ، کونڈا سریکھا ، وی سری ہری ، سابق رکن راجیہ سبھا وی ہنمنت راؤ اور دیگر قائدین عدالت میں موجود تھے۔
