ریاست میں کانگریس کی نہیں کمیشن کی حکومت

Pp18

بی آر ایس کے رکن اسمبلی سابق ریاستی وزیر ٹی ہریش راؤ نے ایک بار پھر چیف منسٹر ریونت ریڈی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ کانگریس حکومت یتیم اور گروکل طلبہ کو مناسب خوراک فراہم کرنے میں ناکام ہوچکی ہے۔ کرسمس کے موقع پر ہریش راؤ نے سدی پیٹ میں یتیم طلبہ سے ملاقات کی بعدازاں میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے حکومت کے رویہ کو غیرانسانی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ گروکل، کستوربا اسکولس کے طلبہ کے میس بل اور کاسمیٹک چارجس طویل عرصے سے زیرالتواء ہیں۔ ہریش راؤ نے کانگریس حکومت کو کمیشن حکومت قرار دیتے ہوئے کہا کہ کمیشن کے بغیر کوئی کام نہیںکیا جارہا ہے۔ طلبہ کمیشن ادا نہیں کرسکتے اس لئے ان کے بلس روکے جارہے ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے گرین چینل کے ذریعہ بلز کی فوری ادائیگی کا وعدہ کیا تھا مگر تاحال اس پر عمل نہیں ہوا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہیکہ غریب طلبہ کے معاملے میں کانگریس حکومت غیرسنجیدہ ہے۔ اس پر حکومت سے سوال کرنے کا ہریش راؤ نے عوام سے مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس پارٹی اس مسئلہ پر عوامی تحریک شروع کرے گی اور ساتھ ہی اسمبلی کے مانسون سیشن میں دیگر عوام مسائل کے ساتھ اس کو بھی موضوع بحث بنائے گی۔ ہریش راؤ نے کہا کہ سابق چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ کی ایک گھنٹہ کی پریس کانفرنس کے بعد کانگریس حکومت کی کارکردگی عوام کے سامنے بے نقاب ہوگئی ہے۔ مستقبل میں حکومت کو سخت سیاسی دباؤ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ کے سی آر کی جانب سے پوچھے گئے ایک بھی سوال کا چیف منسٹر ریونت ریڈی کے علاوہ کانگریس کے کسی قائد نے بھی جواب نہیں دے پایا ہے۔ گرام پنچایت کے انتخابات کے بعد ریاست میں کانگریس حکومت کی الٹی گنتی شروع ہوگئی ہے۔