تلنگانہ اسمبلی میں CURE BILL 2026 کی منظوری

TOP_9-7

حیدرآباد کے بلدیاتی و شہری حکمرانی میں ایک نئے اور جدید دور کا آغاز ہونے جارہا ہے ۔ ریاستی وزیر ڈی سریدھر بابو نے اسمبلی میں کیور اربن بل 2026 پیش کیا ۔ یہ بل ایک شہر ، ایک انتظامیہ ، ایک قانون کے بنیادی فلسفے اور ویژن کے تحت تیار کیا گیا جس پر مباحث کے بعد بل کو منظوری حاصل ہوگئی ۔ حکومت نے 1955 جی ایچ ایم سی ایکٹ کو ختم کرنے کے لیے اس جدید بل کو نافذ کرنے کی قانونی تجویز پیش کی ۔ ڈی سریدھر بابو نے بل کی اہم تفصیلات پیش کرتے ہوئے وضاحت کی کہ یہ نیا قانون حیدرآباد میٹرو پولیٹن ریجن کی تین بڑی بلدیاتی کارپوریشنس GHMC ، MNC ، CMC پر یکساں طور پر لاگو ہوگا۔ اس نئے بل میں 5 بنیادی حصے 43 ابواب 319 دفعات اور 9 شیڈولس شامل ہیں ۔ اس قانون کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس نے انتظامیہ کو صرف بلدیاتی حد تک محدود نہیں رکھا بلکہ اس میں پولیس ، حیڈرا ، واٹر بورڈ کے علاوہ دیگر تمام اہم محکموں کو ایک ہی کور گورننس فریم ورک کا حصہ بنایا ہے ۔ موجودہ GHMC ایکٹ 1955 میں وضع کیا گیا تھا جس کو 14 فروری 1956 میں صدر جمہوریہ کی منظوری حاصل ہوئی تھی ۔ 1955 کا قانون اس وقت کی محض 10 سے 15 لاکھ کی آبادی کو مد نظر رکھتے ہوئے بنایا گیا تھا جب کہ آج حیدرآباد کی آبادی بڑھ کر 1.30 کروڑ تک پہونچ چکی ۔ کور اربن کا علاقہ ریاست تلنگانہ کی اقتصادی ترقی کا سب سے اہم مرکز ہے ۔ جہاں پوری ریاست کی آبادی کا ایک تہائی حصہ رہتا ہے ۔ فی الوقت مختلف سرکاری محکموں اور اداروں کے درمیان باہمی تال میل نہ ہونے کی وجہ سے ترقیاتی کاموں میں تاخیر اور عوام کو پریشانی ہوتی ہے ۔ نیا بل تمام محکموں کو ایک قانونی پلیٹ فارم پر لائے گا جس سے پیچیدہ مسائل کا تیز رفتار حل ممکن ہوگا ۔ ریاست وزیر سریدھر بابو نے کہا کہ اس بل کا بنیادی مقصد تمام سرکاری محکموں ، کارپوریشن اور اداروں کو CURE کے قانونی دائرہ کار میں لاکر حیدرآباد کے شہریوں کو ایک شفاف ، تیز رفتار اور عالمی معیار کا بہترین نظام حکومت فراہم کرنا ہے ۔