مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کی اراضی تحفظ کیلئے طلبہ کا احتجاج

ps2

مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی طلبہ نے ریاستی حکومت کی جانب سے زمین کے حصول کے سلسلہ میں جاری کی گئی نوٹس کے خلاف احتجاج میں شدت پیدا کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ریاستی حکومت کے محکمہ مال کی جانب سے جاری کی جانے والی نوٹس کے خلاف آج بڑے پیمانے پر احتجاج کرتے ہوئے اس بات کا انتباہ دیا کہ اگر نوٹس سے دستبرداری اختیار نہیں کی جاتی ہے تو ایسی صورت میں احتجاج میں مزید شدت پیدا کی جائے گی اور دیگر جامعات کے طلبہ کو بھی اس جدوجہد میں شامل ہونے کی درخواست کی جائے گی۔ محکمہ مال کی جانب سے غیر مستعملہ اراضی کو واپس کرنے کے سلسلہ میں جاری کی گئی نوٹس پر ہونے والی ہنگامہ آرائی کے دوران یونیورسٹی کیمپس میں آج ہوئے احتجاج کے دوران طلبہ نے بتایا کہ 1998 میں جب اس اراضی کو مرکزی حکومت کے توسط سے یونیورسٹی کے حوالہ کیاجاچکا ہے تو اب کیوں ریاستی حکومت کی نیت اس اراضی پر خراب ہورہی ہے!گذشتہ یوم مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کی اراضی کو واپس کرنے کے سلسلہ میں نوٹس کی اجرائی اور انکشاف کے بعد حکومت کی جانب سے اسے بے بنیاد قرار دیئے جانے پر شروع ہوئی ہنگامہ آرائی کے دوران آج طلبہ نے احتجاج شروع کرتے ہوئے اس بات کا انتباہ دیا ہے کہ اگر حکومت کی جانب سے نوٹس سے دستبرداری اختیار نہیں کی جاتی ہے تو اس احتجاج کو کیمپس کی حد تک نہیں رکھا جائے گا بلکہ کیمپس سے باہر بھی اس احتجاج کو لیجایا جائے گا۔ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کو نوٹس کی روانگی کے ذریعہ 50 ایکڑ غیر مستعملہ اراضی کو حاصل کرنے کی کوششوں کے خلاف مرکزی مملکتی وزیر بنڈی سنجے نے بھی ریاستی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ تعلیمی ادارہ کے قیام کے لئے حوالہ کی گئی اراضی کو واپس لیا جانا درست نہیں ہے۔ انہوں نے محکمہ مال کی جانب سے جاری کی گئی نوٹس سے دستبرداری اختیار کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی ایک قومی جامعہ ہے اس کے لئے مزید اراضیات کی تخصیص کے اقدامات کے بجائے اراضی حاصل کرنے کی کوشش افسوسناک ہے۔ ریاستی وزیر جوپلی کرشنا راؤ سے مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کو جاری کی گئی نوٹس کے سلسلہ میں کئے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ وہ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے تنازعہ سے واقف نہیں ہیں لیکن ریاستی ریونت حکومت جو کچھ اقدامات کرے گی وہ قانون کے دائرہ میں رہتے ہوئے کرے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ مولانا آزاد نیشنل یونیورسٹی اور محکمہ مال و ریاستی حکومت کے درمیان جاری تنازعہ سے وہ قطعی طور پر واقف نہیں ہیں۔