ہریش راؤ کی عادل آباد جیل میں بلکا سمن سے ملاقات

19last_4

بی آر ایس کے رکن اسمبلی سابق ریاستی وزیر ٹی ہریش راؤ نے حکمران کانگریس پر دن دھاڑے جمہوریت اور دستور کا قتل کردینے کا الزام عائد کیا ۔ جمہوری اور دستوری اقدار کا تحفظ کرنے کے لیے آواز اٹھانے والے بی آر ایس قائدین پر جھوٹے مقدمات درج کرنے اور جیل بھیجنے کی مذمت کی ۔ ہریش راؤ نے آج عادل آباد جیل پہونچکر بی آر ایس کے سابق ایم ایل اے بلکا سمن سے ملاقات کی ۔ بعد ازاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ضلع منچریال کے کیتن پلی میں کانگریس حکومت نے دن دھاڑے جمہوریت کا قتل کیا ہے ۔ کانگریس قائدین کا خواتین کے ساتھ غیر مہذب برتاؤ ناقابل قبول ہے ۔ اس معاملے کو ریاستی وزیر جی ویویک نے بھی سنجیدگی سے نہیں لیا ہے ۔ ہریش راؤ نے دعویٰ کیا کہ کانگریس کے بعض کونسلرس نے شراب کے نشے میں بی آر ایس کی خاتون کونسلرس کی بے عزتی کی ہے ۔ مگر حکومت نے اس پر کوئی کارروائی نہیں کی اور ساتھ ہی ریاستی الیکشن کمیشن بھی تماشائی بنی رہی ۔ انہوں نے کہا کہ بلکا سمن کو قریب کی جیل میں رکھنے کے بجائے 200 کلو میٹر دور منتقل کرنا کیا ناانصافی نہیں ہے ۔ تلنگانہ میں دستور کا قتل ہورہا ہے ۔ راہول گاندھی کو اس کی پرواہ نہیں ہے ۔ ہریش راؤ نے کہا کہ قانون کسی کی جاگیر نہیں ہے مگر پولیس حکومت کے دباؤ اور اشاروں پر کام کرتے ہوئے بی آر ایس قائدین کو ہراساں و پریشان کررہی ہے ۔ پولیس کا حد سے زیادہ جوش دیکھانا درست نہیں ہے ۔ اگر رویہ نہیں بدلا گیا تو مستقبل میں سنگین نتائج برآمد ہوں گے ۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کو عوام کے تحفظ کے لیے پریڈ کرنی چاہئے ۔ نہ کے بی آر ایس قائدین کو دھمکانے کے لیے ۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس مستقبل میں دوبارہ اقتدار میں آئے گی اور حکومت کے اشاروں پر کام کرنے والے عہدیداروں کو ہرگز معاف نہیں کیا جائے گا ۔