محکمہ مال میں وزیر کے دفتر سے نچلے درجے کے ملازم تک بدعنوانیاں

بی آر ایس کے رکن اسمبلی سابق وزیر ٹی ہریش راؤ نے کہا کہ محکمہ مال میں وزیر کے دفتر سے نچلے درجے کے ملازم تک بدعنوانیاں عروج پر پہونچ گئی ہیں ۔ آج ہریش راؤ نے ضلع سدی پیٹ ہیڈکوارٹر میں تحصیلدار آفس کا اچانک دورہ کیا اور انتظامی بے ضابطگیوں پر سخت ناراضگی کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ریونیو کانفرنس کی درخواستیں دفاتر میں زیر التواء پڑی ہیں اور عوام کو کوئی جوابداہی فراہم نہیں کی جارہی ہے ۔ ہریش راؤ نے نشاندہی کی کہ دھرنی پورٹل کے تحت رجسٹریشن کے ایک ہفتے کے اندر پاس بک جاری کی جاتی تھی ۔ مگر بھوبھارتی کے نفاذ کے چھ ماہ بعد بھی کسانوں کو پاس بکس نہیں دی جارہی ہے ۔ کانگریس نے اقتدار میں آنے سے قبل سدابتیاما کو مفت نافذ کرنے کا وعدہ تھا لیکن اب ہزاروں درخواستیں زیر التواء رکھتے ہوئے کسانوں کو پریشان کیا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس کے دور حکومت میں 6 لاکھ 20 ہزار کسانوں کو سدابنیا ماپٹے دئیے گئے ۔ جب کہ دوسرے مرحلے میں 9 لاکھ 26 ہزار درخواستیں موصول ہوئی ۔ جو عدالتی حکم التواء کے باعث رکی رہی ۔ ہریش راؤ نے کہا کہ موجودہ کانگریس حکومت عدالتی رکاوٹ کے باوجود حلف نامہ کے نام پر عمل آوری میں ناکام رہی ہے ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ 58,000 سے زائد درخواستوں کو زیر التواء ڈال کر کسانوں کا مذاق اڑایا جارہا ہے ۔ ممنوعہ اراضی کی تفصیلات آن لائن جاری نہ کرنے پر بھی انہوں نے سوال اٹھایا اور مطالبہ کیا کہ تمام تفصیلات شفاف انداز میں عوام کے سامنے رکھی جائے ۔ ماضی میں ممنوعہ اراضی کا تناسب 10 سے 20 فیصد تک پہونچ گیا ۔
