ریونت ریڈی کی گورنر سے ملاقات، ایم ایل سی نشستوں پر ناموں کی منظوری کی درخواست

تلنگانہ میں گورنر ایم ایل سی کوٹہ کی دو نشستوں پر جاری تنازعہ کے دوران چیف منسٹر ریونت ریڈی نے آج گورنر شیوپرتاپ شکلا سے لوک بھون میں ملاقات کی اور حکومت کی جانب سے سفارش کردہ دو ناموں کی منظوری کی درخواست کی۔ چیف منسٹر کے ہمراہ وزیر امور مقننہ ڈی سریدھر بابو اور رکن راجیہ سبھا وی نریندر ریڈی موجود تھے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق چیف منسٹر نے گورنر سے درخواست کی کہ گورنر کوٹہ کے تحت ریاستی کابینہ کی جانب سے سفارش کردہ محمد اظہر الدین اور پروفیسر کودنڈا رام کے ناموں کو جلد سے جلد منظوری دیں تاکہ اظہر الدین کی کابینہ میں برقراری کو یقینی بنایا جاسکے۔ چیف منسٹر نے سپریم کورٹ کے عبوری احکامات کا حوالہ دیا جس میں گورنر کو حکومت کی سفارش پر کارروائی کا اختیار دیا گیا۔ گزشتہ 3 ماہ سے گورنر ایم ایل سی کوٹہ کی دونوں نشستوں پر حکومت کے سفارش کردہ ناموں کی فائل راج بھون میں زیر التواء ہے۔ سابق گورنر جشنودیو ورما نے سپریم کورٹ کے قطعی فیصلے تک حکومت کے سفارش کردہ ناموں پر کوئی فیصلہ نہ کرنے کا اصولی موقف اختیار کیا تھا۔ گورنر کی حیثیت سے شیوپرتاپ شکلا کے جائزہ لینے کے بعد چیف منسٹر کی جانب سے ناموں کی منظوری کے لئے یہ پہلی مرتبہ ملاقات تھی۔ واضح رہے کہ جوبلی ہلز ضمنی چناؤ کے دوران حکومت نے 31 اکتوبر 2025 کو محمد اظہر الدین کو ریاستی وزیر کی حیثیت سے حلف دلایا تھا۔ اظہر الدین قانون ساز اسمبلی اور کونسل میں کسی بھی ادارے کے رکن نہیں ہیں۔ ان حالات میں وہ محض 6 ماہ تک وزارت میں برقرار رہ سکتے ہیں اور ان کی مدت 30 اپریل کو ختم ہو رہی ہے۔ اظہر الدین کی کابینہ میں برقراری پر جاری تعطل کو ختم کرنے کے لئے چیف منسٹر نے گورنر سے ملاقات کی تاکہ ناموں کی منظوری سے اظہر الدین کی وزارت کو خطرہ لاحق نہ ہو۔ بتایا جاتا ہے کہ اس مسئلہ جنرل سکریٹری اے آئی سی سی پرینکا گاندھی نے چیف منسٹر ریونت ریڈی سے بات چیت کی اور مسئلہ کا حل تلاش کرنے کی ہدایت دی۔ پرینکا گاندھی کی ہدایت کے فوری بعد چیف منسٹر نے گورنر سے ملاقات کا وقت مانگا۔ باوثوق ذرائع کے مطابق گورنر شیوپرتاپ شکلا نے اس مسئلہ پر قانونی ماہرین سے مشاورت کی ہے اور انہیں فیصلے میں کوئی عجلت نہیں ہے۔ ویسے بھی سپریم کورٹ میں ایم ایل سی نشستوں پر مقدمہ کی آئندہ سماعت 22 اپریل کو ہوگی اور گورنر سپریم کورٹ کے واضح احکامات تک کسی بھی پیشرفت کے حق میں نہیں ہے۔ اب جبکہ محمد اظہر الدین کی کابینہ میں برقراری کے لئے محض 10 دن باقی ہیں چیف منسٹر ریونت ریڈی پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ مسئلہ کا حل تلاش کریں۔ گورنر کی جانب سے ناموں کی عدم منظوری کی صورت میں اظہر الدین کو وزارت سے استعفی دینا پڑے گا۔ انہیں دوبارہ وزارت کا حلف دلایا جاسکتا ہے تاکہ مزید 6 ماہ تک کابینہ میں برقرار رکھا جاسکے۔ چیف منسٹر کے قریبی ذرائع کے مطابق گورنر کی عدم منظوری کی صورت میں دوسرا دستوری آپشن استعمال کیا جائے گا اور اظہر الدین کو وزارت سے استعفی دلا کر دوبارہ حلف دلایا جاسکتا ہے۔ نومبر میں ایم ایل اے کوٹہ کی ایم ایل سی نشستوں کا الیکشن ہوگا جس میں اظہر الدین کو بہ آسانی منتخب کیا جاسکتا ہے۔ واضح رہے کہ گورنر کو سپریم کورٹ کے مقدمہ اور قانونی موقف سے واقف کرانے کے لئے کل ایڈوکیٹ جنرل اے سدرشن ریڈی اور چیف سکریٹری رام کرشنا راؤ نے شیوپرتاپ شکلا سے ملاقات کرتے ہوئے تفصیلات سے واقف کرایا تھا۔ چیف منسٹر کی گورنر سے ملاقات کے بعد بھی ایم ایل سی نشستوں کے بارے میں الجھن برقرار ہے۔
