غیرقانونی کانکنی کی سی بی سی آئی ڈی تحقیقات کا فیصلہ

چیف منسٹر ریونت ریڈی نے اسمبلی میں غیرقانونی کانکنی کے معاملے پر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے سی بی سی آئی ڈی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ اسمبلی میں بی آر ایس کے احتجاج کے دوران چیف منسٹر نے واضح کیا کہ حکومت ریاست کی آمدنی کو نقصان پہنچانے والی کسی بھی بے ضابطگی کو ہرگز برداشت نہیں کرے گی اور اس کی تحقیقات کرائی جائے گی۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے اعلان کیا کہ سرسیلا میں مبینہ ریت مافیا کے سلسلہ میں سنتوش راؤ اور ان کے والد رویندر راؤ کے خلاف تحقیقات کی جائے گی جبکہ بی آر ایس کے سابق وزیر گنگولا کملاکر سے متعلق غیرقانونی گرینائٹ کانکنی اور راجیہ سبھا رکن و ڈی راجو روی چندر کی کمپنی کی مبینہ غیرقانونی سرگرمیوں کی بھی جانچ ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ان تمام معاملات کو راگھوا کنسٹرکشنس کے ساتھ جوڑتے ہوئے سی بی سی آئی ڈی کے حوالے کیا جائے گا تاکہ حقیقات کو عوام کے سامنے لایا جاسکے۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ راگھوا کنسٹرکشن کو پہلے ہی نوٹس جاری کئے جاچکے ہیں اور مائننگ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے جرمانہ بھی وصول کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے محض شکایات پر نہیں بلکہ مکمل تفصیلات حاصل کرنے کے بعد کارروائی کی ہے۔ چیف منسٹر نے الزام لگایا کہ چند عناصر حکومت اور وزراء کو بلیک میل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ تاہم حکومت کسی کے دباؤ میں نہیں آئے گی۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ سی بی سی آئی ڈی کی تحقیقات کے ذریعہ تمام حقائق سامنے لائے جائیں گے اور جو بھی قصوروار ہوگا اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
