آئی ٹی ریٹرنس داخل کرنے والوں کے راشن کارڈس منسوخ کرنے پر کویتا کی برہمی

11-copy

تلنگانہ جاگرتی کی صدر سابق ایم ایل سی کے کویتا نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان افراد کے راشن کارڈس منسوخ کئے جار ہے ہیں جنہوں نے انکم ٹیکس ریٹرن داخل کیا ہے یا معمولی خانگی ملازمتیں کر رہے ہیں ۔ آج بنجارہ ہلز میں جاگرتی کے آفس پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کے کویتا نے کہا کہ مختلف بہانوں کے ذریعہ عوام غریب و متوسط طبقات کے افراد کو فلاحی اسکیمات سے محروم کر رہی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایک طرف کانگریس حکومت نئے راشن کارڈس جاری کرنے کا دعویٰ کر رہی ہے تو دوسری طرف بڑے پیمانے پر راشن کارڈس منسوخ کئے جارہے ہیں ۔ کویتا نے حکومت کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ راشن کارڈس کی منسوخی کا سلسلہ جاری رہا تو اس کے خلاف سخت احتجاج کیا جائے گا ۔ تلنگانہ جاگرتی کی سربراہ نے ملازمتوں کے معاملہ پر بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ مختلف جی اوز کے ذریعہ بیروزگار نوجوانوں کیلئے ملازمتوں کے مواقع محدود کئے جار ہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈگری لکچرس، ڈی ایس سی گروپس سرویس ، پولیس اور گروکل بھرتیوں میں جی او نمبرات 81- 46-29-4 اور 104 رکاوٹ بن رہے ہیں ۔ ان جی اوزکو فوری منسوخ کرنے کا حکومت سے مطالبہ کیا ۔ کویتا نے کہا کہ کانگریس نے انتخابات میں دو لاکھ سرکاری ملازمتیں دینے اور جاب کیلنڈر جاری کرنے کا وعدہ کیا تھا مگر اب تک اس پر عمل آوری نہیں ہوئی ۔ 9 ماہ قبل منعقد ہونے والے نرسنگ امتحانات کے نتائج اب تک جاری نہیں کئے گئے ۔ حکومت نے ماؤں کو دی جانے والی مالی امداد اور کٹس بند کردی گئی ہے جبکہ آنگن وا ڑی ورکرس کو تنخواہیں بھی بروقت ادا نہیں کی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر 7 ہزار کروڑ روپئے فیس ریمبرسمنٹ کے لئے مختص کئے گئے تھے تو وہ طلبہ تک کیوں نہیں پہنچ رہے ہیں جبکہ دوسری جانب موسیٰ ندی پراجکٹ کیلئے بھاری رقم مختص کی جارہی ہے ۔ کویتا نے کہا کہ ریاست میں 30 سے 40 لاکھ خاندان کے نوجوان مسابقتی امتحانات کی تیاری کر رہے ہیں مگر حکومت کے پاس ان کے مستقبل پر توجہ دینے کا وقت نہیں ہے ۔