دبئی میں جائیدادوں کی قیمتوں میں زبردست گراوٹ

دبئی میں جائیدادوں کی قیمتوں میں زبردست گراوٹ ریکارڈ کی جانے لگی ہے اور اب عالمی اداروں کی جانب سے بھی اس بات کی توثیق کی جانے لگی ہے کہ دبئی میں رہائشی جائیدادوں کی قیمتوں میں نمایاں گراوٹ ریکارڈ کی جا رہی ہے۔ کورونا وائرس کے بعد جو صورتحال پیدا ہوئی تھی اس دوران دبئی میں موجود جائیدادوں کی قیمتوں میں دوبارہ فوری اچھال ریکارڈ کیاگیا تھا لیکن اب جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس کے بعد فوری طور پر دبئی کی جائیدادوں کی قیمتوں میںاچھال کے امکان موہوم ہوتے جا رہے ہیں۔ بتایاجاتاہے کہ دبئی میں مقامی عوام کے ساتھ ساتھ بیرونی سرمایہ کاروں نے بھی جائیدادوں کی خریدی میں زبردست دلچسپی دکھائی تھی اور سال 2025کے دوران ہندستانی شہریوں نے مجموعی طور پر 95 ہزار کروڑ کی جائیدادیں دبئی میں خریدی تھیں لیکن اب جبکہ جائیدادوں کی قیمتوں میں گراوٹ ریکارڈ کی جانے لگی ہے تو ایسی صورت میں انہیں بھاری نقصان کا خدشہ لاحق ہوچکا ہے۔تفصیلات کے مطابق 2021 سے 2025کے درمیان دبئی میں جائیدادوں کی قیمتوں میں60فیصد سے زیادہ کا اضافہ ریکارڈ کیاگیا تھا لیکن سال 2026 میں مارچ تا اپریل کے دوران مجموعی طور پر جائیدادوں کی قیمتوں میں 40 فیصد تک کی گراوٹ ریکارڈ کئے جانے کے بعد سرمایہ کاروں میں تشویش پائی جانے لگی ہے۔بتایا جاتا ہے کہ دبئی میں جائیدادوں کے خریداروں میں ہندستانی شہریوں کی بڑی تعداد ہے جو کہ دبئی کو محفوظ سرمایہ کاری کے علاوہ بہتر آمدنی کا ذریعہ تصور کرتے ہوئے سرمایہ کاری کرتے رہے ہیں۔ہندستانی شہریوں کی دبئی میں سرمایہ کاری کی بنیادی وجہ ’ٹیکس سے پاک‘ نظام حکمرانی ہے جس کے نتیجہ میں دنیا بھر سے سرمایہ کار دبئی میں جائیداد کی خریدی کے ذریعہ سرمایہ کاری کر رہے تھے لیکن ایران۔اسرائیل اور امریکہ کے درمیان ہونے والی جنگ کے دوران دبئی میں موجود اسرائیلی اور امریکی اثاثہ جات کو نشانہ بنائے جانے کے بعد دبئی میں سرمایہ کاری کرنے والوں کی تعداد میں زبردست گراوٹ ریکارڈ کی جانے لگی ہے۔بتایاجاتاہے کہ دبئی میں جائیداد کی خریدی کے ذریعہ سرمایہ کاری کرنے والوں کو سرمایہ کاری پر 9 فیصد تک کرایہ حاصل ہونے کے سبب وہ دبئی میں جائیداد کی خریدی میں دلچسپی دکھا رہے تھے جبکہ ہندستان میں سرمایہ کاری اور جائیداد کی خریدی پر انہیں کرایہ کی صورت میں محض 3 فیصد منافع حاصل ہورہا ہے علاوہ ازیں آمدنی پر ٹیکس عائد کیا جاتا ہے۔
