پرانے شہر میں میٹرو ریل کا کام تعطل کا شکار، عوام میں برہمی

12-1

حیدرآباد میٹرو ریل کے دوسرے مرحلہ کے اہم ترین حصے پرانے شہر (ایم جی بی ایس تا چندرائن گٹہ ) کی تعمیر میں مسلسل تاخیر اور حکومت کی ترجیحات پر اب عوامی حلقوں میں ناراضگی دیکھی جارہی ہے ۔ جہاں ایک طرف حکومت میٹرو ریل کے دوسرے مرحلہ کے حوالے سے بڑے بڑے اعلانات کر رہی ہے مگر دوسری جانب زمینی سطح پر کام شروع کرنے کے بجائے صرف کنسلٹنٹس کی خدمات حاصل کرنے پر ضرورت سے زیادہ توجہ دی جارہی ہے ۔ 7.5 کیلو میٹر طویل یہ کوریڈار جس پر 2,866 کروڑ روپئے کی لاگت کا تخمینہ ہے ۔ سالار جنگ میوزیم ، چارمینار اور شاہ علی بنڈہ جیسے تاریخی مقامات سے گزرتا ہے ۔ اس روٹ کی تکنیکی حساسیت کے باوجود تنگ سڑکوں کی کشادگی ، عمارتوں کی مسماری اور ٹریفک کے متبادل راستوں کے تعلق سے اب تک کوئی واضح منصوبہ بندی سامنے آئی ہے ۔ الزامات لگائے جارہے ہیں کہ حکام یہ کہہ کر وقت ضائع کر رہے ہیں کہ تمام مسائل کنسلٹنسی ہی حل کرے گی جبکہ حقیقت میں میدان عمل میں کوئی پیشرفت نظر نہیں آرہی ہے ۔ ٹرانسپورٹ شعبہ کے ماہرین نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا ہے کہ مرکزی حکومت اور دیگر متعلقہ محکمہ جات سے حتمی کلیئرنس حاصل کرنے سے پہلے ہی جنرل کنسلٹنسی کا تقرر کیا جارہا ہے ۔ اصول آپریشنل میٹوئل اور تنظیمی ڈھانچہ پر مشاورت پراجکٹ کے آغاز کے بعد ہونی چاہئے لیکن یہاں پٹری بچھانے سے پہلے ہی انتظامی امور پر بحث چھڑ گئی ہے ۔ میٹرو ریل سیفٹی کمشنر سے اجازت لینے کے نام پر کنسلٹنٹس کی مدد لینا دراصل پراجکٹ کی تاخیر پر پردہ ڈالنے کی ایک کوشش ہے۔ پرانے شہر کے عوام نے کہا اکہ تجارتی مراکز اور ملٹی ماڈل اینٹی گریشن جیسے خواب دکھانے کے بجائے حکومت فوری طور پر عملی اقدامات کا آغاز کریں۔ مرکز سے ضروری اجازت نامہ اور فنڈس حاصل کرتے ہوئے تعمیری کاموں کا آغاز کریں۔