اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ رہنے کے باوجود مسابقتی امتحانات میں اردو ندارد

حکومت تلنگانہ مسابقتی امتحانات سے ’اردو‘ زبان کو ختم کرنے کا فیصلہ کرچکی ہے یا تلنگانہ پبلک سروس کمیشن اس سے واقف نہیں ہے کہ ریاست میں ’اردو‘ کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے! تلنگانہ پبلک سروس کمیشن نے گذشتہ ایک ہفتہ کے دوران 314 مختلف جائیدادوں پر تقررات کا اعلامیہ جاری کیا اور ان تقررات کیلئے درخواستیں موصول کرنے کا عمل شروع کردیا ہے لیکن ملازمتوں کے ان 4 اعلامیہ میں موجود جملہ 314 ملازمتوں کیلئے امتحانات محض انگریزی یا تلگو میں ہی تحریر کرنے کی سہولت فراہم کی گئی ہے جبکہ تلنگانہ میں ’اردو‘ کو دوسری سرکاری زبان کا موقف حاصل ہے۔ گذشتہ دنوں جاری اعلامیہ میں AEE(C) کی 222 جائیدادوں کے علاوہ AEE(E) کی 49 ڈپٹی ایجوکیشن آفیسرس کی 24 جائیدادوں کے علاوہ ماہرین ماحولیات (انجنیئر) کی 19 جائیدادوں پر تقررات کے اعلامیہ جاری کئے گئے جن میں امیدواروں کو محض انگریزی یا تلگو زبان میں امتحان تحریر کرنے کی سہولت فراہم کی گئی ہے اور اردو زبان کو مکمل نظر انداز کیا جاچکا ہے۔ ’اردو‘ زبان کو روزگار سے مربوط کرنے اور اردو داں طبقہ کی ترقی کے ریاست میں مسلسل دعوے کئے جاتے ہیں لیکن ریاست میں مسابقتی امتحانات بالخصوص ملازمتوں کیلئے امتحانات کے دوران ہی اگر حکومت اور پبلک سروس کمیشن سے اردو زبان میں امتحان تحریر کرنے کی سہولت فراہم نہیں کی جاتی ہے تو اردو زبان کی ترقی ‘ ترویج و اشاعت کس طرح سے ممکن ہوگی اور اردو جاننے والے عہدیدار کس طرح حکومت کو حاصل ہوں گے ! حکومت بالخصوص تلنگانہ پبلک سروس کمیشن کے ذمہ داروں کو اس سلسلہ میں فوری توجہ مبذول کرکے تمام اعلامیہ جو جاری کئے گئے ان میں ’اردو‘ زبان میں امتحان تحریر کرنے کی سہولت فراہم کرنے کے اقدامات کرنے چاہئے تاکہ ’اردومیڈیم‘ امیدوار جو کہ انگریزی اور تلگو زبان سے واقف نہیں ہیں وہ بھی ان امتحانات میں حصہ لے کر اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرسکیں ۔ تلنگانہ میں اردو داں طبقہ اور اردو ذریعہ تعلیم رکھنے والوں کی بڑی تعداد موجود ہے اس کے باوجود ’اردو‘ کے ساتھ ناانصافی پر خاموشی ناقابل فہم ہے ۔ ڈپٹی ایجوکیشنل آفیسر کے تقرر کے اعلامیہ میں ’اردو‘ زبان میں امتحان تحریر کرنے کی سہولت فراہم نہ کئے جانے پر یونائیٹڈ تلنگانہ ایمپلائز اسوسیشن فار مائناریٹیز نے سیکریٹری تلنگانہ پبلک سروس کمیشن کو مکتوب روانہ کرکے توجہ مبذول کروائی اور اردو میں امتحانات تحریر کرنے کی سہولت فراہم کرنے اقدامات کی درخواست کی ۔ اس کے علاوہ تین مزید اعلامیہ کی تنقیح کے دوران پتہ چلا کہ پبلک سروس کمیشن نے ان تقررات کیلئے بھی اردو میں امتحانات کی سہولت فراہم نہیں کی ہے جو کہ ’اردو داں‘ طبقہ کو بالواسطہ طور پر ملازمتوں سے محروم کرنے کے مترادف ہے ۔ تلنگانہ میں اردو کے تحفظ اور ترقی کیلئے جدوجہد کرنے والوں کو چاہئے کہ وہ فوری اس پر توجہ دیتے ہوئے حکومت ‘ وزیر اقلیتی بہبود جناب محمد اظہر الدین و تلنگانہ پبلک سروس کمیشن سے نمائندگی کرکے ان امتحانات بلکہ تلنگانہ پبلک سروس کمیشن کے ذریعہ ہونے والے تمام امتحانات میں ’اردو‘ میں پرچہ تحریر کرنے کی سہولت فراہم کرنے پر زور دیں۔
