ایس آئی آر محض ووٹ کا مسئلہ نہیں‘ شہریت پر بھی آنچ آ سکتی ہے

7last_4

فہرست رائے دہندگان میں نام کی عدم موجودگی اب محض ووٹ کا مسئلہ نہیں بلکہ ملک میں حکومت سے فراہم کی جانے والی سہولتوں اور شہریت سے مسئلہ کو جوڑا جانے لگا ہے۔ فہرست رائے دہندگان میں نام کی عدم موجودگی شہریت پر سوال کا سبب بن رہی تھی اور اب مغربی بنگال نے ووٹر لسٹ میں نام نہ ہونے پر سرکاری اسکیموں سے محروم کرنے کا جو فیصلہ کیا ہے وہ نئی طرح کی ہراسانی کی سازش ہے۔ جن شہریوں کا فہرست رائے دہندگان میں نام نہیں ہوگا ان کے راشن کارڈ منسوخ کرنے کے فیصلہ پر مختلف گوشوں سے تنقید کی جارہی ہے لیکن جن ریاستوں میں SIR ہوچکا ہے اسے دیکھتے ہوئے تلنگانہ کے شہریوں کو چوکسی اختیار کرنالازمی ہے کیونکہ الیکشن کمیشن سے ووٹر لسٹ کی تنقیح کا فائدہ اٹھاکر حکومت ووٹر لسٹ میں جن کے نام موجود نہیں ہیں انہیں نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی پر عمل کرنے لگی ہے ۔ تلنگانہ میں جملہ 30 لاکھ رائے دہندوں کو فہرست رائے دہندگان سے حذف کرنے کی جو بات کی جا رہی ہے وہ انتہائی تشویشناک ہے۔ تلنگانہ میں SIR سے شہریوں اور رائے دہندوں کو نہ صرف اپنے متعلق چوکنا رہنے کی ضرورت ہے بلکہ اپنے پڑوسی اور دیگر احباب کے متعلق بھی تمام تفصیلات کو درست کروانے چاہئے تاکہ کسی کی شہریت یا سرکاری اسکیمات سے محروم ہونے سے بچایا جاسکے۔ تلنگانہ میں 25 جون سے SIR شروع ہونے جا رہا ہے ۔SIR کیلئے ابتدائی تیاریاں عہدیداروں کو تربیت کا عملہ 15تا24 جون مکمل کیا جائے گا جبکہ 25 جون سے بی ایل اوز گھر گھر پہنچ کر اندراجات یقینی بنانے کے علاوہ تنقیح کریں گے۔31 جولائی کو فہرست رائے دہندگان کا مسودہ جاری کیا جائے گا ۔ اس کے بعد 31 جولائی تا 30 اگسٹ اعتراضات یا ادعاجات داخل کرنے کی سہولت حاصل رہے گی۔31 جولائی تا 28 ستمبر شہریوں کو جن کے ناموں کے متعلق اعتراض یا کوئی خامی ہے تو نوٹسوں کی اجرائی اور ان کی سماعت الکٹورل رول آفیسر کے پاس کی جائے گی ۔ اس عمل کی تکمیل کے بعد یکم اکٹوبر کو قطعی فہرست رائے دہندگان کی اجرائی عمل میں لائی جائے گی اسی لئے شہریان حیدرآباد تلنگانہ کو SIR کے دوران محتاط رہ کر اپنے ناموں کی درستگی و اندراجات کے عمل کو شفاف بنانے متحرک رہنا چاہئے ۔ مساجد کے ذمہ داروں اور خطیب حضرات کو بھی اس سلسلہ میں عوامی شعور بیداری کے علاوہ مساجد میں SIR کے مراکز کے قیام اور بی ایل اوز کو گھر گھر لیجا کر تمام رائے دہندوں کی تنقیح کو یقینی بنانا چاہئے ۔