شہر میں زبردست بارش، برقی شاک لگنے سے دو نوجوان فوت

موسم باراں کے آغاز سے قبل آج بارش نے شہر حیدرآباد میں مانسون کی آمد سے قبل ہی بارش کی تباہ کاریوں کو ظاہر کرنا شروع کردیا اور ماقبل مانسون بارش کے دوران برقی تاروں کے گرنے کے نتیجہ میں دو نوجوانوں کی جان چلی گئی ۔ دونوں شہروں حیدرآباد وسکندرآباد میں سہ پہر سے ہی مطلع ابرآلود ہونے کے بعد شروع ہونے والی بارش کے دوران کئی مقامات پر درخت اکھڑنے اور برقی تاروں کے گرنے کی شکایات کے ساتھ شہرکی بیشتر اہم سڑکوں پر ٹریفک جام اور پانی جمع ہونے کی شکایات موصول ہونے لگی۔ چھتہ بازار کی سمت واقع دیوان دیوڑھی کی تاریخی کمان کا بڑا حصہ منہدم ہونے کے سبب چھتہ بازار کے علاقہ میں بھی خوف و سراسمیگی پھیل گئی ۔ شہر حیدرآباد میں موسم باراں کو محفوظ بنانے کے لئے پانی کی نکاسی کے مناسب انتظامات کے علاوہ درختوں کی کٹوائی اور برقی تاروں کی درستگی کے اقدامات کے ساتھ ’حیڈرا‘ کے ذریعہ کروڑہا روپئے خرچ کرتے ہوئے نالوں کی صفائی بالخصوص برساتی نالوں کی صفائی کے اقدامات کے دعوے کئے جا رہے تھے لیکن مانسون کے شہر پہنچنے سے قبل ایک گھنٹہ کی بارش نے انتظامیہ کے دعوؤں کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔حلقہ اسمبلی چندرائن گٹہ کے علاقہ بندلہ گوڑہ پر موجود رائل سی ہوٹل کے قریب دو نوجوان 25 سالہ ظفر کے علاوہ 16 سالہ نوجوان ’ابو‘ دونوں برقی شاک لگنے سے فوت ہوگئے ۔ تفصیلات کے مطابق دونوں نوجوان بارش کے دوران آٹو رکشا سے اس مقام پر پہنچے اور آٹو سے اترتے ہی جب پانی میں پیر رکھا تو برقی شاک لگا جس کے نتیجہ میں ظفر برسرموقع جان بحق ہو گئے اور ’ابو ‘ کو خانگی دواخانہ منتقل کیا گیا جہاں وہ دوران علاج جانبر نہ ہوسکے۔ بندلہ گوڑہ میں پیش آئے اس واقعہ کے ساتھ ہی علاقہ میں غم و اندوہ کی لہر دوڑ گئی۔ بندلہ گوڑہ میں پیش آئے اس حادثہ پر مقامی عوام نے محکمہ برقی کی لاپرواہی پر شدید احتجاج کیا ۔ نوجوانوں کے فوت ہونے کی اطلاع کے ساتھ ہی ان کے افراد خاندان جائے حادثہ پر پہنچ کر آہ و بکا کرنے لگے ۔ تیز ہواؤں کے ساتھ ہونے والی بارش کے ساتھ کئی مقامات پر ژالہ باری ہوئی اور درخت گرنے کے سبب مختلف علاقوں میں ٹریفک جام ہوگئی ۔ کنگ کوٹھی ‘ حیدرگوڑہ ‘ بشیر باغ ‘ حمایت نگر ‘ فلک نما ‘ عابڈس ‘ جہاں نما‘ چندرائن گٹہ ‘ حافظ بابا نگر‘ کنچن باغ ‘ بہادر پورہ‘ بارکس ‘ شاستری پورم ‘ راجندر نگر ‘ ہائی ٹیک سٹی ‘ گچی باؤلی ‘ تالاب کٹہ ‘ نشیمن نگر‘ یاقوت پورہ‘ قلندر نگر‘ ریاست نگر ‘ بھوانی نگر ‘ کے علاوہ دیگر علاقوں میں برقی سربراہی منقطع ہوگئی اور کئی گھنٹوں تک برقی سربراہی کو بحال نہیں کیا جاسکا۔مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے حدود میں موجود سیاحتی مقام ’حسین ساگر‘ کٹہ پہلی مرتبہ جھیل کا منظر پیش کر رہا تھا ۔ حسین ساگر میں جھیل میں پانی کے ساتھ ساتھ کٹہ پر سے گذرنے والی گاڑیاں بھی جھیل سے گذر رہی ہیں ایسا محسوس ہورہا تھا۔دونوں شہروں کے کئی مقامات و اہم سڑکوں پر ٹریفک جام کے نتیجہ میں راہگیرکئی گھنٹوں تک ٹریفک میں پھنسے رہے ۔انفارمیشن ٹکنالوجی کے مرکز تصور کئے جانے والے علاقہ میں ٹریفک جام کے اثرات کو شیخ پیٹ ‘ ٹولی چوکی ‘ مہدی پٹنم‘ لکڑی کا پل‘ خیریت آباد‘کے علاوہ جوبلی ہلز ‘ بنجارہ ہلز ‘ مہندرا ہلز ‘ بورہ بنڈہ ‘ امیر پیٹ ‘ حفیظ پیٹ ‘ کوکٹ پلی اور دور دراز کے علاقوں تک محسوس کیا گیا اور بیشتر علاقوں میں7بجے بارش کا سلسلہ رکنے کے بعد بھی 10 بجے رات تک ٹریفک کو بحال نہیں کیاجاسکا۔چھتہ بازار میں قدیم کمان کے بڑے حصہ کے منہدم ہونے پر مقامی عوام نے بتایا کہ اس کمان کی مکمل آہک پاشی اور مرمت کے سلسلہ میں متعدد نمائندگیوں کے باوجود اقدامات نہ کئے جانے کے سبب یہ حادثہ پیش آیا ہے۔ بندلہ گوڑہ علاقہ میں 9 ذی الحجہ کی رات دیر گئے بھی رہائشی علاقوں میں برقی تاروں کے کمزور ہونے کے سبب کرنٹ اور چنگاریوں کے ساتھ آوازیں نکل رہی تھیں۔اس سلسلہ میں ٹی ایس ایس پی ڈی سی ایل کے عہدیداروں سے شکایت بھی کی جاچکی ہے لیکن تاحال ان تاروں کی تبدیلی کے سلسلہ میں کوئی اقدامات نہیں کئے گئے ۔شہر میں بارش کے دوران ہونے والے نقصانات کے سلسلہ میں سرکاری طور پر کسی بھی طرح کے کوئی اعداد و شمار جاری نہیں کئے گئے بلکہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے حدود میں گرنے والے درختوں کی تفصیلات بھی جاری کرنے سے گریز کیا گیا حالانکہ بارش کے بعد کئی علاقوں میں ایمرجنسی ٹیموں کی تعیناتی کے دعوے کئے گئے اور بعض اہم اور مصرو ف سڑکوں پر جی ایچ ایم سی کے ایمرجنسی عملہ اور ’حیڈرا‘ کے اہلکاروں کو پانی کی نکاسی کی کوشش کرتے ہوئے دیکھا گیا لیکن بعض مقامات پر ٹریفک ڈیوٹی انجام دے رہے پولیس اہلکار ہی پانی کی نکاسی کی کوشش کرتے ہوئے نظر آئے اورکئی نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے کے سبب گھریلو اشیاء ناکارہ ہونے کی بھی شکایات موصول ہوئی۔
