ایران کے پاس کبھی جوہری ہتھیار نہیں ہوں گے، نہ آج اور نہ کل

Nitin-Yahoo

اسرائیل میں امریکہ اور ایران کے درمیان مجوزہ معاہدے پر بڑھتی ہوئی ناراضی کے درمیان وزیرِ اعظم بنجامن نیتن یاہو نے اپنے موقف کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ “ایران کو معاہدے کے ساتھ یا اس کے بغیر بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں ہوں گے۔نیتن یاہو نے پیر کی شام ایک مختصر پریس کانفرنس میں عبرانی زبان میں کہا کہ ایران کے پاس کبھی بھی جوہری ہتھیار نہیں ہوں گے، نہ آج اور نہ ہی مستقبل میں۔انہوں نے کہا کہ لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ ہم نے کیا حاصل کیا ہے؟ میرا جواب یہ ہے کہ ہم نے اپنے سروں پر منڈلانے والے فوری تباہی کے خطرے کو ٹال دیا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم نے اسرائیل کو مکمل تباہی کے خطرے سے بچایا ہے۔وزیرِ اعظم کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب انہیں نہ صرف اپوزیشن بلکہ اپنی حکمران اتحادی جماعتوں کے بعض رہنماؤں کی تنقید کا بھی سامنا ہے۔ نیتن یاہو نے واضح کیا ہے کہ اسرائیلی فوج لبنان اور شام میں اپنے زیرِ قبضہ علاقوں سے دستبردار نہیں ہوگی چاہے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی یا امن معاہدہ ہی کیوں نہ ہوجائے۔بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق نیتن یاہو نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ اسرائیل جنوبی لبنان میں قائم اپنے سکیورٹی زون میں جب تک ضرورت ہوگی موجود رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل اپنی قومی سلامتی اور سرحدی علاقوں کے تحفظ کیلئے ضروری اقدامات جاری رکھے گا۔رپورٹس کے مطابق اسرائیل اس وقت لبنان کے تقریباً 570 مربع کلومیٹر علاقے پر قابض ہے، جبکہ شام کے بعض علاقوں میں بھی اس کی فوجی موجودگی برقرار ہے۔نیتن یاہو کے اس بیان کو امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے مجوزہ معاہدے کیلئے ایک نیا چیلنج قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ معاہدے کی بعض غیر مصدقہ تفصیلات میں لبنان میں مکمل اور مستقل جنگ بندی کا ذکر کیا گیا ہے۔اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ اسرائیل ایران کے حمایت یافتہ گروہوں کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھے گا اور خطے میں کسی بھی خطرے کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار رہے گا۔انہوں نے یہ بھی اعتراف کیا کہ بعض معاملات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ان کے اختلافات موجود ہیں، تاہم اسرائیل کی سلامتی ان کی اولین ترجیح ہے۔ اسرائیل کے سابق وزیرِ اعظم اور وزارتِ عظمیٰ کے اہم امیدوار نفتالی بینیٹ نے اس سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ نیتن یاہو حکومت کا دورِ اقتدار ’’خانہ جنگی جیسی صورتحال‘‘ سے شروع ہوا، سات اکتوبر کے المناک واقعات کے دوران آگے بڑھا اور اب ایران کے معاملے پر “تاریخی ناکامی” کے ساتھ اختتام پذیر ہو رہا ہے۔دوسری جانب اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے بھی اعلان کیا ہے کہ اسرائیلی فوج لبنان، شام اور غزہ میں اپنے زیرِ قبضہ علاقوں سے انخلا نہیں کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ فوجی موجودگی کا مقصد اسرائیلی شہریوں اور سرحدوں کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق نیتن یاہو کے حالیہ بیانات امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی کوششوں کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں، جبکہ لبنان میں ممکنہ جنگ بندی کے امکانات پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔دریں اثناء اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر ایتامار بن گویر نے بھی کہا کہ مجوزہ معاہدہ اسرائیل کیلئے “لازمی اور پابند” نہیں ہوگا۔امریکی صدر کے ساتھ اختلافات کی خبروں پر نیتن یاہو نے کہا کہ کبھی کبھی ایسے مواقع آتے ہیں جب صدر ٹرمپ اور میرے خیالات مکمل طور پر ایک جیسے نہیں ہوتے۔متعدد تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ معاملہ مجوزہ معاہدے میں رکاوٹ بن سکتا ہے، کیونکہ اس معاہدے میں ہر قسم کی دشمنانہ سرگرمیوں کے خاتمے کی شق شامل ہے.