اسمبلی کی توسیع کا منصوبہ ، کانسٹیٹیوشنل کلب کی تعمیر کی تجویز

تلنگانہ ریاستی اسمبلی کی توسیع کے منصوبہ کو ریاستی حکومت کی جانب سے قطعیت دیتے ہوئے اسمبلی حدود میں ’’کانسٹیٹیوشنل کلب ‘‘ کی تعمیر کے اقدامات کو تیز کردیا گیا ہے اور اس سلسلہ میں شاہی مسجد باغ عامہ کی 1539 مربع گز اراضی کے حصول کے لئے اقدامات کو تیز کردیاگیا ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ ریاستی اسمبلی میں تلنگانہ قانون ساز کونسل کی منتقلی کے بعد اب مجوزہ کانسٹیٹیوشنل کلب کی تعمیر کے اقدامات کئے جانے لگے ہیں اور محکمہ اقلیتی بہبود کے علاوہ دیگر متعلقہ محکمہ جات کے ساتھ اجلاس میں شاہی مسجد کی اراضی کے حصول کے سلسلہ میں سروے منعقد کرنے کا فیصلہ کیا جاچکا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ریاستی اسمبلی کو شاہی مسجد باغ عامہ کی 1539 مربع گز اراضی حوالہ کی جائے گی اور اس کے عوض محکمہ باغبانی سے 641 مربع گز اراضی کے علاوہ تلنگانہ اسمبلی کی 698 مربع گز اراضی شاہی مسجد کے حوالہ کی جائے گی۔شاہی مسجد باغ عامہ جو کہ متحدہ آندھراپردیش کے گزٹ میں سیرئیل نمبر 1778پر درج ہے اور اس کے تحت مجموعی اعتبار سے 13ہزار 811 مربع گز اراضی ہے جبکہ یہ میٹرو پولیٹین ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کے تحت تہذیبی ورثہ کی فہرست میں شامل زمرہ اول کی عمارت ہے۔محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں نے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ شاہی مسجد باغ عامہ کے تحت موجود 13 ہزار 811 مربع گز اراضی میں فی الحال مسجد کے حصہ میں جملہ 10ہزار117 مربع گز اراضی موجود ہے اور 3500 مربع گز اراضی کی نشاندہی کا عمل باقی ہے ۔ عہدیداروں کا ماننا ہے کہ شاہی مسجد کی اراضی کے حصول کے لئے کئے جانے والے اقدامات پر مختلف گوشوں سے اعتراض ہوسکتا ہے اور مسجد کی اراضی حوالہ کرتے ہوئے متبادل اراضی کے حصول میں محکمہ اقلیتی بہبود کے اقدامات کو غیر شرعی قرار دیتے ہوئے رکاوٹ پیدا کی جاسکتی ہے۔ ذرائع کے مطابق ریاستی حکومت نے محکمہ اقلیتی بہبود کو اس مسئلہ کو جلد سے جلد سروے مکمل کرواتے ہوئے حل کرنے اور تلنگانہ ریاستی اسمبلی کی توسیع کیلئے اراضی حوالہ کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ محکمہ اقلیتی بہبود اور تلنگانہ وقف بورڈ کے بیشتر ذمہ داراور عہدیداروں نے شاہی مسجد باغ عامہ کی اراضی حکومت کے حوالہ کرنے کے سلسلہ میں آمادگی کا اظہار کردیا ہے اور جلد ہی سروے منعقد کرتے ہوئے اراضی کی حوالگی اور متبادل اراضی کے حصول کے اقدامات کو مکمل کرلیا جائے گا۔
