یہ ڈرنے والی نہیں حکومتوں کو ڈرانے والی نسل ہے ‘ وزیر تعلیم استعفی دیں

24last

بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر نے نیٹ پیپر لیک ہونے پر دہلی میں طلبہ کے پرامن احتجاج کرنے پر دہلی پولیس کے جابرانہ رویے پر سخت برہمی کا اظہار کرکے کہا کہ یہ ڈرنے والی نسل نہیں ہے بلکہ ڈرانے والی نسل ہے جس سے ٹکرا کر وزیر اعظم نریندر مودی نے بڑی غلطی کی ہے جس کا انہیں خمیاۃ بھگتنا پڑے گا ۔ وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان فوری مستعفی ہوجائیں یا حکومت انہیں وزارت سے برطرف کردیں ۔ بی آر ایس کی طلبہ تنظیم نے ملک بھر کے لاکھوں طلبہ کے مستقبل کو تاریک کرنے والے نیٹ پیپر لیک اسکینڈل اور دہلی کے جنترمنتر پر پرامن احتجاج کرنے والے طلبہ پر پولیس کے بے رحمانہ لاٹھی چارج و تشدد کے خلاف دھرنا چوک اندرا پارک پر دھرنا کا اہتمام کیا جس میں ریاست کے مختلف اضلاع سے ہزاروں طلبہ نے شرکت کی ۔ سابق وزیر کے ٹی آر نے طلبہ کے حقوق اور ان کے ساتھ نا انصافی کی مخالفت میں آج اپنی سالگرہ تقاریب کو منسوخ کردیا ۔ وہ احتجاج سے اظہار یگانگت کیلئے سیاہ قمیص زیب تن کئے اندرا پارک دھرنے کے مقام پہونچے ۔ دھرنے سے خطاب میں کے ٹی آر نے مرکز کی بی جے پی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ۔ انہوں نے کہا کہ نیٹ پیپر لیک نے ملک کے لاکھوں ہونہار طلبہ کا مستقبل داؤ پر لگا دیا ہے ۔ اس سنگین ناکامی اور نا انصافی کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرکے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو اپنے عہدے سے فوری استعفیٰ دینا چاہئے ۔ کے ٹی آر نے کہاکہ دہلی میں ہمارے بچوں اور طلبہ پر حملوں کے مناظر دیکھ کر میری آنکھوں میں آنسو آگئے ۔ کیا طلباء نے وزیراعظم مودی یا امیت شاہ سے ان کی کرسیاں مانگی تھیں ؟ کیا انہوں نے حکومت گرانے کی بات کی تھی ؟ وہ صرف اپنے مستقبل اور تعلیمی انصاف کیلئے پرامن احتجاج کررہے ہیں ۔ کے ٹی آر نے مرکزی حکومت اور وزیراعظم نریندر مودی کو انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ طلبہ اور نوجوانوں کی طاقت کو کم سمجھنے کی ہرگز غلطی نہ کریں یہ وہ نسل نہیں جو ڈر جائے بلکہ یہ وہ نسل ہے ظالم حکمرانوں کو ڈرانے کی طاقت رکھتی ہے ۔ مرکزی حکومت یاد رکھے نیپال اور بنگلہ دیش میں طلبہ اور نوجوانوں کے غیض و غضب کے بعد وہاں کی حکومتیں کیسے زمین بوس ہوگئیں ۔ انہوں نے پرامن طلبہ پر پولیس کے جابرانہ سلوک اور بی جے پی قائدین کی جانب سے طلبہ تحریک کو جہادی ، پاکستانی ، آئی ایس آئی ، خالصتانی ، ٹکڑے ٹکڑے گینگ و دہشت گردی اربن نکسلائٹ سے جوڑنے کی مذمت کی اور کہا کہ طلبہ کی طاقت سے ٹکرانے والے پاش پاش ہوجائیں گے ۔ انہوں نے طلبہ کے احتجاج کی بھر پور حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اس احتجاج کی بی آر ایس مکمل تائید کرتی ہے ۔ انہوں نے جذباتی نعرہ دیتے ہوئے کہا کہ ’ جینا ہے تو مرنا سیکھو ۔ قدم قدم پر لڑنا سیکھو ‘ کے ٹی آر نے یاد دلایا کہ بی آر ایس کی تاریخ دہلی کے حکمرانوں کی گردنیں جھکا کر تلنگانہ ریاست حاصل کرنے کی رہی ہے اور بی آر ایس کسی بھی مرکزی نراج کے خلاف طلبہ کی ڈھال بن کر کھڑی رہے گی ۔