عام آدمی ہی نہیں بلکہ دنیا کے سرکردہ ممالک بھی مقروض

TOP_19-6

قرض صرف عام آدمی پر ہی نہیں ہوتا بلکہ حکومتیں بھی مقروض ہوتی ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ عام آدمی اپنا قرض خود ادا کرتا ہے جبکہ حکومت اپنے قرض کا بوجھ عوام پرعائد کرتے ہوئے ان سے وصول کرتی ہے۔ یوں کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ حکومت کی ناکامیاں اور کوتاہیوں کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑتا ہے اور ٹیکسوںکی صورت میں ہر شہری حکومت کے قرض میں اپنی حصہ داری کو ادا کرتا ہے۔ دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک بھاری قرض میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ امریکہ جو خود کو دنیا کا خود ساختہ لیڈر ثابت کرنا چاہتا ہے ، وہ خود بھی بھاری قرض میں مبتلا ہے۔ دنیا کے 10 سے زائد ممالک کی نشاندہی کی گئی جہاں کی حکومتیں قرض میں مبتلا ہیں۔ سروے کے مطابق انفراسٹرکچر اور ترقیاتی کاموں کیلئے حکومتوں کی جانب سے خانگی مالیاتی اداروں سے بھاری قرض حاصل کیا جاتا ہے جس کی ادائیگی عوام پر ٹیکسوں کی صورت میں عمل میں آتی ہے۔ سروے کے مطابق امریکی حکومت 40.74 ٹریلین ڈالر کی مقروض ہے جبکہ چین کا قرض 22.29 ٹریلین ڈالر ریکارڈ کیا گیا ہے ۔ جاپان حکومت پر 8.95 ٹریلین ڈالر جبکہ برطانیہ کی حکومت 4.42 ٹریلین ڈالر کی مقروض ہے۔ مقروض حکومتوں کی فہرست میں ہندوستان 8 ویں نمبر پر ہے جس کا مجموعی قرض 3.46 ٹریلین ڈالر ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس فہرست میں فرانس ، اٹلی ، جرمنی ، کینیڈا اور برازیل بھی شامل ہیں جہاں کی حکومتوں کا قابل لحاظ قرض درج کیا گیا ہے۔ 2026 میں اہم ممالک کے قرض کا جائزہ لیا گیا اور ماہرین کے مطابق ہر سال قرض کی رقم میں اضافہ ہورہا ہے ۔ حکومتوں کا استدلال ہے کہ اندرون ملک آمدنی میں کمی کے سبب فلاحی اور ترقیاتی اسکیمات کیلئے قرض کے حصول کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے۔ حکومتوں کو قرض کی فراہمی میں کئی عالمی مالیاتی اداروں کا اہم رول ہے ، جن میں ورلڈ بینک ، آئی ایم ایف اور ایشین ڈیولپمنٹ بینک شامل ہیں۔ عوام کی فلاح و بہبود کے نام پر قرض حاصل کرنے سے بہتر ہے کہ حکومتیں اپنی کارکردگی کو بہتر بنائیں تاکہ قرض کا بوجھ عوام پر عائد نہ ہو۔