تلنگانہ کو تین مہینوں میں 42,525 کروڑ روپئے کی آمدنی

کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (CAG) نے جاریہ مالیاتی سال 2026-27ء کیلئے جون کے آخر تک پہلی سرماہی سے متعلق تلنگانہ کے مالیاتی اعدادوشمار پر مشتمل رپورٹ جاری کردی ہے۔ سی اے جی کی رپورٹ کے مطابق سالانہ بجٹ کے جملہ تخمینے 2,41,263 کروڑ روپئے میں پہلے تین مہینوں (اپریل۔ مئی۔ جون) کے دوران حکومت کو 42,525 کروڑ روپئے کی ریونیو آمدنی حاصل ہوئی ہے جبکہ اس کے مقابلے میں جملہ اخراجات آمدنی سے کہیں زیادہ 61,394 کروڑ روپئے درج کئے گئے۔ پہلی سہ ماہی میں ٹیکس کی وصولی مسحتکم رہی ہے تاہم غیرٹیکس ریونیو اور مرکزی گرانٹس کی کمی کے باعث مجموعی آمدنی پر بوجھ پڑا ہے۔ جملہ ٹیکس ریونیو 38,447 کروڑ جی ایس ٹی 13,988 کروڑ روپئے سیلس ٹیکس 9,251 کروڑ محکمہ اکسائز 5,044 کروڑ روپئے اسٹامپ و رجسٹریشن 4,510 کروڑ روپئے غیرٹیکس ریونیو 2,697 کروڑ روپئے کی مرکزی گرانٹس صرف 1,380 کروڑ روپئے رہے ہیں۔ ریاست کے جملہ 61,394 کروڑ روپئے کے اخراجات میں ریونیو اخراجات (54,815 کروڑ روپئے) پر مشتمل رہا ہے جس سے جون کے آخر تک ریاست کا ریونیو خسارہ 12,289 کروڑ روپئے تک جا پہنچا۔ ملازمین کی تنخواہوں پر 13,063 کروڑ پرانے قرضوں پر سود 7,778 کروڑ پنشن پر 7,309 کروڑ مختلف سبسیڈیز پر 6,956 کروڑ روپئے تعمیر و ترقیاتی فنڈز پر 6,579 کروڑ روپئے خرچ کئے گئے ہیں۔ مالیاتی ضروریات اور خسارے کو پورا کرنے کیلئے حکومت نے بجٹ میں مقرر کردہ سالانہ قرض کے ہدف (58,458) کروڑ روپئے میں صرف پہلی سہ ماہی جون کے آخر تک ہی 21,919 کروڑ روپئے کے قرض حاصل کئے گئے۔ ترقیاتی کاموں کیلئے صرف 6,579 کروڑ روپئے ہی تخصیص پانا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ زیادہ تر رقم جاریہ اخراجات، تنخواہوں اور قرض کی ادائیگی میں خرچ ہورہی ہے۔
