چائلڈمیریج ملک میں اہم سماجی چیلنج، مغربی بنگال ، بہار اور جھارکھنڈ سرفہرست

TOP_18-7

چائلڈ میریج یعنی کم عمر کی شادیاں ہندوستان میں آج بھی ایک اہم سماجی چیلنج کی طرح برقرار ہے۔ ہندوستان میں صدیوں سے کم عمر لڑکیوں کی شادی کے رجحان کو ختم کرنے کیلئے کئی سماجی تحریکات چلائی گئیں اور کئی نامور مصلحین نے چائلڈ میریج کے خاتمہ کی جدوجہد کی۔ سماجی تحریکات کے علاوہ حکومتوں کی سطح پر چائلڈ میریج کو روکنے کیلئے باقاعدہ قانون سازی کی گئی اور جرم ثابت ہونے پر سزا کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ ہندوستان میں چائلڈ میریج سے متعلق ایک سروے میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ 20 تا 24 سال عمر کی خواتین کا قابل لحاظ فیصد ایسا ہے کہ جن کی شادی 18 سال سے پہلے انجام پائی ۔ حکومت کی سطح پر شادی کیلئے لڑکیوں کی عمر18 سال مقرر ہے لیکن دیہی اور قبائلی علاقوں میں آج بھی کم عمر بچوں کی شادی کا رجحان برقرار ہے ۔ چائلڈ میریج کے معاملہ میں مغربی بنگال سرفہرست ہے جہاں چائلڈ میریج کا فیصد 41.6 ریکارڈ کیا گیا ہے ۔ بہار اور جھارکھنڈ علی الترتیب 40.8 فیصد اور 32.2 فیصد کے ساتھ دوسرے اور تیسرے نمبر پر ہے۔ چائلڈ میریج کی سماجی لعنت کی شکار دیگر ریاستوں میں آندھراپردیش ، تلنگانہ ، مدھیہ پردیش ، راجستھان ، گجرات ، مہاراشٹرا اور کرناٹک شامل ہیں۔ کیرالا ، اتراکھنڈ ، ہماچل پردیش، جموں و کشمیر اور میزورم میں چائلڈ میریج کا رجحان کافی کم ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ غربت اور ناخواندگی بنیادی وجہ ہیں اور سماجی ذمہ داریوں کی جلد تکمیل کے لئے دیہی علاقوں کی قدیم روایات سے وابستہ خاندانوں میں کم عمری کی شادیوں کو نیک شگون تصور کیا جاتا ہے۔ ماہرین نے کہا کہ خواندگی کے علاوہ شعور بیداری مہم اور قوانین پر سختی سے عمل آوری کے ذریعہ کم عمر لڑکیوں کو اس سماجی لعنت سے بچایا جاسکتا ہے۔ خواتین کی معاشی ترقی اور تعلیم اور صحت کے شعبہ میں ان کے لئے بہتر سہولتوں کی فراہمی کے ذریعہ چائلڈ میریج کے رجحان پر قابو پایا جاسکتا ہے۔