اردو اکیڈیمی کی 5220مربع گز اراضی کا معاملہ

Telangana-urdu-academy

محکمہ اقلیتی بہبود نے اردو اکیڈیمی کی 5220 مربع گز اراضی کی نجی کمپنی کو حوالگی کے سلسلہ میں جاری کئے گئے جی او ایم ایس 20 کو ’زیرالتواء‘ رکھنے کے لئے جی او ایم ایس 22جاری کردیا ہے۔ ’روزنامہ سیاست‘ میں تلنگانہ اردو اکیڈیمی کو تفویض کردہ 5220 مربع گز اراضی کے متعلق انکشاف کے بعد چیف سیکریٹری سنجے جاجو کی مداخلت اور احکامات کی تنسیخ کی ہدایت کے باوجود محکمہ اقلیتی بہبود نے محض جی او کو ’زیر التواء ‘ رکھنے کے احکام جاری کئے ہیں۔ محکمہ اقلیتی بہبود کے مذکورہ جی او کو منسوخ کرنے کی واضح ہدایات کے باوجود محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے جی او کو ’زیر التواء‘ رکھنے کے احکامات کی اجرائی سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ محکمہ اقلیتی بہبود نجی کمپنی کو حکومت کے خلاف عدالت سے رجوع ہوتے ہوئے احکامات حاصل کرنے کی سہولت فراہم کرنا چاہتا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق اگر اراضی کی تخصیص سے متعلق جی او کی تنسیخ کے بجائے اگر اسے زیر التواء رکھا جاتا ہے تو ایسی صورت میں جس کمپنی کو اراضی مختص کی گئی ہے وہ کمپنی عدالت سے راحت حاصل کرنے کی کوشش کر سکتی ہے۔ اسی لئے اراضی کی تخصیص کے جی او کو زیر التواء رکھے جانے کے لئے جی او کی اجرائی پر بھی شبہات پیدا ہونے لگے ہیں اور کہا جار ہا ہے کہ محکمہ اقلیتی بہبود میں موجود بدعنوان عہدیدارمسئلہ کوالجھاتے ہوئے ’’نجی کمپنی ‘‘ کو فائدہ پہنچانے کی کوشش میں مصروف ہیں جبکہ تلنگانہ ہائی کورٹ میں محکمہ اقلیتی بہبود کے جی او ایم ایس کی تنسیخ کے لئے ایک درخواست داخل کی جاچکی ہے ۔مذکورہ درخواست میںکئے گئے دعوے جو کہ بنیادی طور پر درست ہیں کی بنیاد پر عدالت کی جانب سے منسوخ کیا جاتاہے تو ایسی صورت میں مذکورہ اراضی جس کمپنی کو مختص کی گئی ہے اس کمپنی کی جانب سے اس کے خلاف عدالت میں استدلال پیش کئے جاسکتے ہیں ۔ حکومت عدالت میں مقدمہ بازی کے لئے اڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل کی خدمات کے علاوہ دیگر وکلاء کی خدمات کے حصول کے بجائے اپنے اقدام کو درست قرار دینے کی کوشش کے بجائے جی او ایم ایس 20 کی تنسیخ کے ذریعہ عدالت میں رپورٹ پیش کرتے ہوئے مقدمہ کو ختم کرنے کی راہ ہموار کرسکتی تھی لیکن تنسیخ کے بجائے جی او کو ’زیر التواء ‘ رکھنے کے احکامات سے یہ واضح ہو رہا ہے کہ حکومت جی او ایم 20 کی اجرائی کے ذریعہ تلنگانہ اردو اکیڈیمی کی قیمتی اراضی کو 30 سال کی لیز پر دیئے جانے کے موقف کا دفاع کرنے کی حکمت عملی تیار کرنے میں مصروف ہے۔