دستور اور جمہوریت کے تحفظ کیلئے کانگریس کارکنوں کو متحرک ہونے کا مشورہ

Page2-5-1

صدر پردیش کانگریس مہیش کمار گوڑ نے پارٹی قائدین اور کارکنوں پر زور دیا کہ وہ ہندوستان چھوڑدو تحریک کی یادگار کے موقع پر دستور کے تحفظ کا عہد کریں۔ مہیش کمار گوڑ آج گاندھی بھون میں ہندوستان چھوڑو تحریک کے 84 سال کے تکمیل کے موقع پر تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے قومی پرچم لہرایا اور مہاتما گاندھی اور دیگر مجاہدین آزادی کو خراج پیش کیا۔ گاندھی بھون کے احاطہ میں مہاتما گاندھی کے مختلف مجسمے دیگر مجاہدین کے آزادی کے ساتھ مشاہدہ کے لئے رکھے گئے تھے۔ تقریب میں ریاستی وزراء پونم پربھاکر، ڈی سریدھر بابو، کونڈا سریکھا، وی سری ہری، محمد اظہر الدین، رکن پارلیمنٹ انیل کمار یادو، نائب صدر نشین تلنگانہ پلاننگ بورڈ ڈاکٹر جی چنا ریڈی، سیوادل کے صدر نشین جتیندر اور دیگر قائدین شریک تھے۔ مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ انگریز سامراج کے خلاف مہاتما گاندھی نے فیصلہ کن جدوجہد کے تحت ہندوستان چھوڑو تحریک شروع کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ کہ اس تحریک سے جذبہ حاصل کرتے ہوئے ہمیں ملک کے موجودہ حالات میں دستور اور جمہوریت کے تحفظ کی جدوجہد کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کی زیر قیادت انگریزوں کے خلاف کامیاب جدوجہد کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ 8 اگست 1942 کو مہاتما گاندھی نے کرو یا مرو کے نعرے کے تحت ہندوستان چھوڑو تحریک کا آغاز کیا تھا۔ اس جدوجہد میں ملک کے تمام طبقات سے تعلق رکھنے والے عوام نے شرکت کی اور انگریزوں کے مظالم کا سامنا کرنے کے باوجود جدوجہد کو ترک نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ مہاتما گاندھی اور پنڈت جواہر لال نہرو کی قیادت میں سردار پٹیل، مولانا ابوالکلام آزاد جیسے سرکردہ مجاہدین آزادی نے اہم رول ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ برطانوی سامراج سے ملک کو نجات حاصل ہوگئی لیکن آج ملک میں جمہوریت اور دستور کو خطرہ لاحق ہوچکا ہے۔ راہول گاندھی کی قیادت میں کانگریس پارٹی دستور اور جمہوریت کے تحفظ کے لئے جدوجہد کررہی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ نریندر مودی حکومت عوام کی بھلائی کو فراموش کرچکی ہے اور طلبہ اور نوجوانوں کے مستقبل سے کھلواڑ کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی طلبہ کی جدوجہد کے ساتھ ہے اور راہول گاندھی ملک کے مختلف شہروں میں ’چھاتروں کی گونج‘ پروگراموں میں حصہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سردار پٹیل کی وراثت کو بی جے پی حاصل کرنا چاہتی ہے جبکہ آزادی کی جدوجہد میں بی جے پی اور سنگ پریوار کا کوئی حصہ نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ فلاحی اور ترقیاتی کاموں میں تلنگانہ ملک کے لئے مثالی ریاست بن چکی ہے۔ انہوں نے بی آر ایس اور بی جے پی کی جانب سے حکومت کے خلاف پروپگنڈہ کو مسترد کردیا اور کہا کہ عوام حکومت کی کارکردگی سے مطمئن ہیں۔ مہیش کمار گوڑ نے پارٹی کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ SIR مہم میں سرگرمی سے حصہ لیتے ہوئے 10 اگست تک فہرست رائے دہندگان میں ناموں کی شمولیت کو یقینی بنائیں۔