حیدرآباد اور اضلاع میں SIR کی سماعتیں انتہائی سست

sir-copy-1

گریٹر حیدرآباد اور مضافاتی اضلاع میں ووٹر لسٹوں کی خصوصی جامع نظرثانی (SIR) کا عمل انتہائی سست رفتاری کا شکار ہے۔ انتخابی عہدیداروں نے معائنے میں پایا کہ ووٹرس کو نوٹس جاری کرنے کے باوجود ان کی بنیاد پر کی جانے والی تحقیقات متوقع اور درکار سطح پر نہیں کی جارہی ہے جس سے اس اہم ترین عمل میں غیرمعمولی تاخیر ہورہی ہے۔ ریاستی الیکشن کمیشن نے حیدرآباد کے بشمول رنگاریڈی اور میڑچل ملکاجگری اضلاع میں سماعت کی رفتار توقع کے مطابق نہ ہونے پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے اور فیلڈ عہدیداروں کو روزانہ کی بنیاد پر سماعتیں کرنے اور ری شیڈولنگ کے امکانات کے بارے میں عوام میں شعور بیدار کرنے کی سخت ہدایات جاری کی ہیں۔ ضلع حیدرآباد کے 15 اسمبلی حلقوں میں جملہ 12,53,876 رائے دہندوں کیلئے نوٹس تیارکئے گئے ہیں جن میں 12,04,498 ووٹرس کی سماعت ہی مکمل نہیں ہوئی۔ 4,79,880 ووٹرس کو الاٹ کی گئی سماعت کی تاریخیں ختم ہوچکی ہیں کیونکہ وہ مقررہ شیڈول پر فیلڈ آفیسرس کے سامنے حاضر نہیں ہوئے۔ تاریخیں ختم ہونے کے بعد ان تمام 4.79 لاکھ ووٹرس کو ایک اور موقع دینے کیلئے دوبارہ وقت طئے کرنا پڑرہا ہے۔ تاہم اب تک صرف 796 افراد نے ہی اپنی سماعت کی تاریخیں دوبارہ ترتیب دی ہیں۔ ضلع میڑچل ملکاجگری کے 5 اسمبلی حلقوں میں 14,07,352 ووٹرس کیلئے نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ ہوا ہے جن میں سے 11,35,946 افراد میں نوٹس جاری کردیئے گئے جبکہ 2,71,406 افراد کو نوٹس دینا باقی ہے۔ نوٹس وصول کرنے والوں میں 5, 68,167 ووٹرس کی سماعت مکمل ہوچکی ہے۔ اس ضلع میں مجموعی طورپر 7,81,892 ووٹرس کی سماعت کی تاریخ ختم ہوچکی ہے۔ ان میں سے بھی صرف 40,106 افراد نے ہی اپنی سماعت کا وقت اور تاریخ ری شیڈول کروائی ہے۔ ضلع رنگاریڈی کے 8 اسمبلی حلقوں میں SIR-2002 کی غلط تفصیلات کی بنا پر 12,33,490 ووٹرس کو نوٹس جاری کرنے کے احکامات دیئے گئے جن میں سے 9,45,205 افراد میں نوٹس تقسیم کئے گئے۔ اب تک صرف 5,75,194 افراد سماعت میں شریک ہوئے جبکہ 5,78,907 افراد نے الاٹ شدہ سماعتوں میں شرکت نہیں کی اور ان کی تاریخیں ختم ہوگئیں۔ جن لوگوں کی تاریخیں ختم ہوئی ہیں ان میں سے صرف 680 افراد نے اپنی سماعتوں کو دوبارہ ترتیب د یا ہے۔ حکام اور تجزیہ نگاروں کا ماننا ہیکہ اگرچہ ان سماعتوں کو تیز رفتاری کے ساتھ منعقد کیا جانا تھا لیکن فیلڈ لیول پر اس کی مطلوبہ رفتار نظر نہیں آرہی ہے۔ حکام کا یہ بھی خیال ہیکہ اگر عوام کو اس بات کی واضح معلومات فراہم کی جائے کہ سماعت میں شرکت کے وقت انہیں اپنے ساتھ کونسے شناختی دستاویزات اور کونسی تفصیلات پیش کرنی ہے۔ اگر یہی صورتحال رہی تو (SIR) کی فائنل لسٹ کا جاری ہونا شدید متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔