حکومت کے نامزد عہدوں پر تمام طبقات کو موثر نمائندگی

TOP_12

کانگریس رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر ملو روی نے گریجویٹ ایم ایل سی نشستوں کے امیدواروں میں پسماندہ طبقات کو نظرانداز کرنے کے الزامات کو مسترد کردیا۔ گاندھی بھون میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ڈاکٹر ملو روی نے کہا کہ تلنگانہ میں کانگریس حکومت کے قیام کے بعد ایم ایل سی کی نشستوں میں تمام طبقات کو موثر نمائندگی دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے اہم سرکاری عہدوں پر پسماندہ اور کمزور طبقات کو بہتر نمائندگی دی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت کی تشکیل کے بعد دو ایم ا یل سی نشستوں پر مہیش کمار گوڑ اور بی وینکٹ کو فائز کیا گیا۔ دوسری مرحلہ ایم ایل اے زمرہ کی ایم ایل سی نشستوں میں ایس سی طبقہ کے ادنکی دیاکر ، ایس ٹی طبقہ سے شنکر نائک اور بی سی زمرہ میں وجئے شانتی کو نامزد کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ دو مراحل میں ریڈی طبقہ سے ایک بھی نمائندگی نہیں دی گئی۔ گورنر کوٹہ کے تحت دو ایم ایل سی نشستوں پر مسلم اقلیت سے اظہرالدین اور تلنگانہ تحریک کے رہنماکودنڈا رام کو نامزد کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ راجیہ سبھا کیلئے بی سی طبقہ سے تعلق رکھنے والے انیل کمار یادو کو نمائندگی دی گئی۔ ڈاکٹر ملو روی نے کہا کہ نامزد عہدوں میں نوجوانوں کو ترجیح دی جارہی ہے۔ گریجویٹ زمرہ کی دو ایم ایل سی نشستوں کیلئے نوجوان امیدوار ایس رام موہن ریڈی کو حیدرآباد ، رنگا ریڈی اور محبوب نگر اضلاع پر مشتمل نشست کیلئے امیدوار بنایا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ایم ایل سی نشستوں پر کانگریس امیدواروں کی کامیابی کیلئے کارکنوں کو متحدہ ہونا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ کامیابی کے امکانات کا جائزہ لینے کے بعد گریجویٹ ایم ایل سی امیداوروں کا تعین کیا گیا ہے۔