ہندوستانی امرود کی دنیا میں دھوم، ملک میں 5476 ہزار ٹن سالانہ پیداوار

Page2-11-1-1230x1536

ہندوستان کی ہارٹیکلچر پیداوار میں اگرچہ کئی فصلیں شامل ہیں لیکن امرود جسے حرف عام میں جام بھی کہا جاتا ہے اس کی پیداوار غیر معمولی ریکارڈ کی گئی۔ 2024-25 میں ملک میں امرود کی پیداوار 5476 ہزار میٹرک ٹن درج کی گئی۔ دیگر فروٹس کے معاملہ میں ہندوستان میں امرود کی زائد پیداوار ریکارڈ کی گئی ہے۔ اترپردیش 1125 ہزار میٹرک ٹن کی پیداوار کے ساتھ ملک میں سرفہرست ہے۔ مدھیہ پردیش میں 1062 ہزار میٹرک ٹن کی امرود کی پیداوار نے ریاست کو دوسرے مقام پر پہنچا دیا ہے۔ امرود کی زائد پیداوار والی دیگر ریاستوں میں آندھرا پردیش، ٹاملناڈو اور پنجاب شامل ہیں۔ ریاستوں کے اعتبار سے نہ صرف پیداوار بلکہ امرود کی اقسام بھی مختلف ہوتی ہیں۔ ہندوستان میں پیدا ہونے والا امرود کئی ممالک میں برآمد کیا جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ امرود کی پیداوار کے لئے اراضی کا فصل کے لئے موزوں ہونا ضروری ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ حالیہ برسوں میں مختلف ممالک سے جام ہندوستان کو درآمد کیا جارہا ہے جو اپنے سائز اور خوبصورتی کی لحاظ سے عوام کے لئے توجہ کا مرکز بن چکے ہیں۔ دنیا کے مختلف ممالک سے فروٹس ہندوستان کو درآمد کئے جاتے ہیں لیکن سائنسی تحقیق کے اعتبار سے ہندوستان کے فروٹس صحت کے لئے زیادہ فائدہ مند ہیں۔ ذائقہ کے اعتبار سے بھی دیسی امرود کو زیادہ پسند کیا جاتا ہے۔ اترپردیش، مدھیہ پردیش کے علاوہ امرود کی پیداوار میں مہاراشٹرا،
گجرات، ہریانہ، راجستھان، پنجاب، بہار، مغربی بنگال، آسام، اڈیشہ، آندھرا پردیش اور ٹاملناڈو بھی اہمیت کے حامل ہیں۔ ریاستوں میں امرود کی مختلف اقسام حتی کہ ذائقہ بھی مختلف ہوتا ہے۔ ڈاکٹرس کا کہنا ہے کہ امرود صحت کے لئے فائدہ مند اور خاص طور پر خون کی صفائی میں مددگار ثابت ہوا ہے۔