سرکاری جائیدادوں پر ہر چھ ماہ میں تقررات کرنے چیف منسٹر ریونت ریڈی کا اعلان

16_ppp12

چیف منسٹر ریونت ریڈی نے سابق چیف منسٹر کے سی آر کو بی آر ایس کے 10 سالہ دور حکومت اور موجودہ کانگریس حکومت کے دوران کسانوں کی فلاح و بہبود پر اسمبلی میں مباحث کا چیالنج کیا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت نے صرف ڈھائی سال میں کسانوں کی فلاح و بہبود پر 1.70 کروڑ خرچ کئے ہیں۔ چیف منسٹر سنگاریڈی میں اسمارٹ راشن کارڈس کی تقسیم تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ رعتو بھروسہ اسکیم کے تحت امدادی رقم کو فی ایکر 12000 روپے کیا گیا اور ابھی تک کسانوں کے بینک اکاؤنٹس میں 36 ہزار کروڑ جمع کئے گئے۔ 2 لاکھ روپے تک کے قرض کی معافی کے تحت 21 ہزار کروڑ خرچ کئے گئے جو ملک میں اپنی نوعیت کی منفرد اسکیم ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے 32 ماہ میں دھان کی خریداری کے عوض میں 90 ہزار کروڑ کسانوں کے بینک اکاؤنٹس میں منتقل کئے ہیں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ اسمارٹ راشن کارڈ غریبوں کی خودداری کی علامت ہے۔ انہوں نے بی جے پی اور بی آر ایس سے سوال کیا کہ عوام کے لئے کبھی باریک چاول مفت تقسیم کیا گیا؟ انہوں نے کہا کہ بی جے پی اور بی آر ایس ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ راشن کارڈ پر باریک چاول کی تقسیم، اندراماں ہاوزنگ اور آروگیہ شری اسکیمات کا ملک بھر میں چرچہ ہے۔ گزشتہ 32 ماہ کے دوران ریاست میں بجلی کی قلت نہیں ہوئی۔ کسی بھی شعبہ کو برقی کٹوتی نہیں کی گئی۔ ریاست کے ہر گاؤں میں کسانوں کو 24 گھنٹے مفت برقی سربراہ کی جارہی ہے۔ چیف منسٹر نے اعلان کیا کہ مخلوعہ سرکاری جائیداوں پر ہر 6 ماہ میں باقاعدگی کے ساتھ تقررات کئے جائیں گے۔ انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ اپوزیشن کے گمراہ کن پروپگنڈہ کا شکار نہ ہوں۔ آپ کو ملازمت فراہم کرنے کی ذمہ داری حکومت کی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت کے خلاف گمراہ کن پروپگنڈہ کے ذریعہ اپوزیشن سیاسی فائدہ حاصل کرنا چاہتی ہے۔ گزشتہ ڈھائی سال میں 72 ہزار سرکاری جائیدادوں پر تقررات کئے گئے اور مزید 10 ہزار جائیدادوں کے لئے نوٹیفکیشن جاری کیا گیا۔ اندراماں ہاوزنگ کے تحت 2 سال میں 7 لاکھ مکانات منظور کئے گئے۔ شہری اور دیہی علاقوں میں اسکیم پر عمل کیا جارہا ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ 2034 تک حکومت کو اپنا آشیرواد برقرار رکھیں۔ اس موقع پر ریاستی وزراء اتم کمار ریڈی، دامودر راج نرسمہا، ویویک وینکٹ سوامی، صدر پردیش کانگریس مہیش کمار گوڑ اور عوامی نمائندے موجود تھے۔