نوجوانوں میں ناراضگی سے وزیر اعظم مودی بوکھلاہٹ کا شکار

وزیر اعظم نریندر مودی بغیر ’ٹیلی پرامپٹر‘ دیکھے تقریر نہیں کرسکتے!80 ویں یوم آزادی کے موقع پر لال قلعہ سے وزیر اعظم کی تقریر کا مختلف گوشوں سے مضحکہ اڑانے کے علاوہ ان میں لڑکھڑاہٹ کو نشانہ بنایا جانے لگا ہے علاوہ ازیں وزیر اعظم کے ’دماغی نکسل‘ ریمارک کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا جا رہاہے کہ وزیر اعظم خود اپنے عوام کو ’دماغی نکسل‘ قرار دے رہے ہیں۔ مودی کی تقریر کے دوران لڑکھڑاہٹ اور بار بار لکھی ہوئی تقریر کو دیکھتے ہوئے اپنی اصلاح کی کوشش کا GenZ نے نہ صرف مضحکہ اڑانا شروع کردیا ہے بلکہ یہ کہہ رہے ہیں کہ وزیر اعظم کو دنیابھر میں ہندستان کی عزت رکھنے ٹیلی پرامپٹر کے استعمال سے گریز نہیں کرناچاہئے ۔سوشل میڈیا پر تبصروں میں کہا جا رہاہے کہ وزیر اعظم نے یوم آزادی پر جو تقریر کی وہ ان کی کھلی بوکھلاہٹ کو ظاہر کرنے کافی ہے۔سرکردہ سیاسی قائدین اور صحافیوں نے وزیر اعظم کی جانب سے ’دماغی نکسل‘ کے ریمارک کو تشویشناک قرار دیا اور کہا ہے کہ وزیر اعظم دراصل حکومت سے سوال کرنے والوں اور جمہوری انداز میں مخالفت کرنے والوں کے متعلق یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ ’دماغی نکسل ‘ ہیں۔ وزیر اعظم کے ان ریمارکس پر کئی سرکردہ قائدین اور صحافیوں نے جو آزاد صحافت کو فروغ دینے والوں میں شمار کئے جاتے ہیں وہ اور کاکروچ جنتا پارٹی کے ذمہ داروں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ اگر انہیں ’دماغی نکسل‘ کہا جار ہاہے تو وہ فخر سے کہتے ہیں وہ ’دماغی نکسل ‘ ہیں۔ 80 ویں یوم آزادی پر وزیر اعظم کا خطاب اور ہاتھوں اور ہونٹوں میں رعشہ کی بھی مختلف گوشوں نے نشاندہی کر ہے جبکہ ان کی اوپری جیب میں ترنگا کے رنگوں والی رومال کو بھی الٹا لگانے پر نشانہ بنایا جانے لگا ہے اور کہا جارہا ہے کہ وزیر اعظم ملک کے نوجوانوں میں پھیل رہی بغاوت سے بوکھلاہٹ کا شکار نظر آنے لگے ہیں۔
