خلائی تحقیق اور دیگر شعبہ جات میں ریسرچ کیلئے سیٹلائیٹس کا استعمال

TOP_7-13

خلائی تحقیق کے شعبہ میں دنیا کے کئی اہم ممالک نے مختلف سیٹلائیٹس روانہ کئے ہیں ۔ خلاء میں روانہ کئے گئے سیٹلائیٹس کے معاملہ میں امریکہ دنیا میں سرفہرست ہے اور 11673 ایکٹیو سیٹلائیٹس مختلف شعبہ جات میں تحقیق کا کام انجام دے رہے ہیں ۔ چین 1000 سے زائد سیٹلائیٹس کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے جبکہ برطانیہ کے 670 سے زائد سیٹلائیٹس خلائی تحقیق میں مصروف ہیں اور تعداد کے اعتبار سے برطانیہ تیسرے نمبر پر ہے ۔ ماہرین کے مطابق حالیہ برسوں میں خلائی تحقیق کے علاوہ موسمی تبدیلی اور دفاعی شعبہ کے استحکام کیلئے بھی ترقی یافتہ ممالک سیٹلائیٹس کی خدمات حاصل کر رہے ہیں۔ سیٹلائیٹس کے ذریعہ دشمن ممالک کی سرگرمیوں پر نظر رکھی جاسکتی ہے۔ مواصلاتی نظام کی ترقی اور سائنس کے مختلف شعبہ جات میں تحقیق کے لئے سیٹلائیٹس سے مدد لی جاتی ہے ۔ روس کے 220 سے زائد ایکٹیو سیٹلائیٹس خلاء میں سرگرم ہیں جبکہ جاپان کے سیٹلائیٹس کی تعداد 200 سے زائد بتائی جاتی ہے ۔ ہندوستان نے بھی خلائی تحقیق کے علاوہ دیگر شعبہ جات میں ریسرچ میں اضافہ کیا ہے اور خلاء میں 130 سے زائد ایکٹیو سیٹلائیٹس کے ذریعہ ریسرچ کا کام انجام دیا جارہا ہے ۔ یوروپی یونین کے 100 ، کینیڈا 60 ، جرمنی 50 اور ساؤتھ کوریا کے 40 سے زائد سیٹلائیٹس تحقیق کے کام میں مصروف ہیں۔