اراضی تنازعات کی یکسوئی میں تاخیر پر وزیر مال سرینواس ریڈی کی برہمی

srinivas-reddy

وزیر مال پی سرینواس ریڈی نے اراضی تنازعات کی یکسوئی میں تاخیر پر ریونیو عہدیداروں کی سرزنش کی۔ رجسٹریشن ایکٹ کے سیکشن 22A کے تحت موجودہ اراضیات اور جائیدادوں کو ممنوعہ فہرست سے حذف کرنے موصولہ درخواستوں کی عاجلانہ یکسوئی کی ہدایت کے باوجود کئی اضلاع میں متعلقہ تحصیلدار اور سب رجسٹرارس کی جانب سے تاخیر کی شکایت پر وزیر مال نے برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو سرکاری دفاتر کے چکر کاٹنے پر مجبور کرنے والے عہدیداروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ وزیر مال نے نلگنڈہ اور سوریہ پیٹ اضلاع میں موصولہ درخواستوں کی یکسوئی کا عہدیداروں کے ساتھ جائزہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ عہدیداروں کو مقررہ وقت میں درخواستوں کی یکسوئی کرتے ہوئے اراضیات اور جائیدادوں کو ممنوعہ فہرست سے حذف کرنے کے ساتھ رجسٹریشن کی راہ ہموار کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ طویل عرصہ سے زیر التواء درخواستوں کو اولین ترجیح دی جائے۔ وزیر مال نے مختلف تحصیلداروں سے زیر التواء درخواستوں کی تفصیلات حاصل کیں اور گزشتہ کئی ماہ سے درخواستوں کی عدم یکسوئی پر ناراضگی جتائی۔ انہوں نے ضلع کلکٹرس کو ماتحت عہدیداروں سے جواب طلب کرنے کی ہدایت دی۔ سرینواس ریڈی نے کہا کہ ریاست میں اراضیات کے دوبارہ سروے کے پہلے مرحلے کا کام اکتوبر تک مکمل کرلیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ممنوعہ فہرست میں شامل اراضیات کے بارے میں مالکین کو فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے تحصیلدار و سب رجسٹرارس کو ہدایت دی کہ زیر التواء درخواستوں کے معاملہ میں انسانی ہمدردی کا رویہ اختیار کریں اور درخواست گذاروں سے تعاون کریں۔