یومیہ 2.32لاکھ ہدف کے مقابلے صرف 29ہزار ووٹرس سماعت کیلئے حاضر

TOP_30

ریاست تلنگانہ میں ووٹر لسٹوں کی خصوصی جامع نظر ثانی (SIR) عمل کے دوران ووٹر لسٹ کی درستگی اور تصدیق کے عمل میں شدید عوامی عدم دلچسپی اور بے حسی کے باعث لاکھوں ووٹرس کے نام فائنل ووٹر لسٹ سے خارج ہونے کا سنگین بحران پیدا ہوگیا ہے ۔ الیکشن کمیشن کے احکامات کے مطابق تمام اضلاع کے (DEOs) اور (EROs) کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ روزآنہ اوسطاً2.32 لاکھ ووٹرس کی سماعت اور تصدیق کو یقینی بنائیں لیکن اب تک کے اعداد و شمار کے مطابق یومیہ صرف 29 ہزار ووٹرس سماعت کیلئے آگے آرہے ہیں ۔ ریاست بھر میںجملہ 92.88لاکھ ووٹرس کو نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا ، جن میں سے 47.79 لاکھ ووٹرس کو اب تک نوٹس جاری کی جاچکی ہے جبکہ مزید 45.08 لاکھ ووٹرس کو نوٹس ، پرنٹنگ اور اس کی تقسیم زیر التواء ہیں جن کی تکمیل کیلئے کم از کم مزید 15دن درکار ہوں گے ۔ الیکشن حکام اور شیڈول کے مطابق اب تک تقریباً 40 لاکھ ووٹرس کو سماعت میں حاضر ہونا چاہیئے تھا مگر افسو سناک طور پر صرف 5.74 لاکھ ووٹرس ہی سامنے آئے ہیں جبکہ 32.39 لاکھ سے زائد ووٹرس مقررہ تاریخ اور وقت پر حاضر نہیں ہوسکے جس کی وجہ سے ان کے ووٹ منسوخ ہونے کا خطرہ لاحق ہوگیا ہے ۔ علاوہ ازیں 8.269 افراد نے اپنی نوٹس کیلئے نئی تواریخ کا مطالبہ کیا ہے ۔ انتخابی اصلاحات کی اس خصوصی مہم کے دوران سست روی کے خلاف الیکشن کمیشن نے شعور بیداری کیمپس کا بھی انعقاد کیا ہے تاکہ شہری ووٹر لسٹ میں اپنے نام ، پتہ ، عمر وغیرہ کی غلطیوں کو درست کراسکے لیکن عوامی لاپرواہی کا عالم یہ رہا کہ ضلع رنگاریڈی کے اسمبلی حلقہ شیر لنگم پلی میں واقع گچی باؤلی منڈل پریشد اسکول پولنگ بوتھ پر صبح سے شام تک بی ایل اوز اور عملہ خالی کرسیوں پر انتظار کرتا رہا اور پورے دن میں ایک بھی شخص اپنے دستاویزات دکھانے نہیں آیا ۔